قصّہ حاتم طائ --19-- ظفرجی
بہرحال چالیس بار ناک رگڑوا کر ، 70 بار کان پکڑوا کر اور سو بار توبة کروا کر رات ساڑھے دس بجے عالیہ کو ہمارے حوالے کیا گیا-
صادق اڈّے سے یکّہ لے آیا- میں ایک بار پھِر دولھا بن کر یکّے پر جا بیٹھا- عالیہ چادر کا پلّو سنبھالتی سکڑتی سمٹتی پچھلی نشت پر رونق افروز ہوئ- جاڑے کی چاندنی میں اس کا وجود اوس کی مانند جگمگا رہا تھا-
یکّہ سمندری روڈ پر بگٹٹ بھاگ رہا تھا- وصل کا سرور میرے رگ و پے میں سرایت کرنے لگا- میری کیفیّت کبڈّی کے اُس کھلاڑی کی سی تھی کہ سانس ٹوٹنے سے گھڑی پہلے جسے فتح میسّر آئ ہو- عالیہ اب میری تھی اور دنیا کی کوئ طاقت اسے مجھ سے چھین نہ سکتی تھی-
" برود والے پُل" تک ھم دونوں خاموش رہے- البتہ دل برابر دھڑکتے رہے-
"سلونی جھال" سے گزرتے ہوئے گھنّے درختوں پر کسی اُلو نےشور کیا- عالیہ نے ڈر کر اپنی چوڑیوں والی کلائ میرے کندھے پر دھر دی اور پوچھا:
"سلونی جھال" سے گزرتے ہوئے گھنّے درختوں پر کسی اُلو نےشور کیا- عالیہ نے ڈر کر اپنی چوڑیوں والی کلائ میرے کندھے پر دھر دی اور پوچھا:
" ایہہ کی چیز بولدی ؟؟"
میں نے کہا:
" کُچھ نہیں ... اُلو شور کرتا ہے"
اس نے پوُچھا:
"اوہ کاس لئ ؟؟"
میں نے فرطِ محبّت سے اس کا ہاتھ چوم کر کہا:
"شاید .... اس کی ووھٹی گُم ہو گئ ہے" وہ کھکھلا کر ہنس دی-
رات بارہ بجے ھم مُلاں پور پہنچ گئے- پنڈ خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹ رہا تھا اور میری زندگی کا سورج طلوع ہو رہا تھا- میں ایک بار پھر شوھر سے عاشق بننے جا رہا تھا- وہ رات یقیناً زندگی کی ایک حسین ترین رات تھی-
ملاں پور کے لاؤڈ اسپیکروں پر فجر کی اذانیں بلند ہوئیں تو ہمیں صبح کا احساس ہوا- میں غسل کر کے مسجد پہنچا اور پہلی صف میں کھڑے ہو کر نمازِ فجر ادا کی- واپس گھر آیا تو عالیہ نے سلیمانی چائے میز پر آن دھّری-
میں نے حیرت سے پوچھا:
" دودھ ختم ہے ؟"
وہ شرما کر بولی:
" راتی بِلّا پی گیا اے ... !!"
میں زیرِ لب مسکراتا ہوا قہوہ پینے لگا- خیال آیا کہ ایک اچھّے جیون ساتھی سے بڑی کوئ نعمت اس دُنیا میں نہیں ہے- اپنی قسمت پر رشک کرتے کرتے جانے کب میں سو گیا-
سورج کافی بلند ہوا تو عالیہ نے مُجھّے جھنجھوڑ کر جگایا- باہر کوئ زور زور سے دروازہ پیٹ رہا تھا-
میں نے اٹھ کر چپل پہنی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا دروازے تک پہنچا- کنڈی کھولی تو باہر مدرسے کا ایک کمسن طالب علم یارُو کھڑا ہوا تھا-
میں نے کہا:
"ہاں یارُو .... خیریت ؟؟"
وہ بولا:
" مولوی صاب نے بلایا ہے !!!"
میں نے کہا:
"کیوں ؟؟ ؟؟"
وہ بولا:
" پتا نئیں جی"
میں نے دروازہ چڑھایا اور بال جھاڑتے ہوئے واپس کمرے میں آیا- پھر اچانک ٹھٹھک کر رُکّا اور پریشانی کی لکیریں میرے ماتھے پر نمودار ہونے لگیں-
میں نے عالیہ کو آواز دی:
میں نے عالیہ کو آواز دی:
" عالی .... میری رات والی قمیض دینا ... اس کی جیب میں ایک ضروری کاغذ تھا ... !!!!"


No comments:
Post a Comment