قصّہ حاتم طائ --20-- ظفرجی
میں ڈرتا جھجکتا مسجد پہنچا-
مولوی نزیر بچّوں کو درس دے رہا تھا- 9 سے 122 سال کے بچّے لہک لہک کر قران پڑھ رہے تھے-
مولوی نزیر بچّوں کو درس دے رہا تھا- 9 سے 122 سال کے بچّے لہک لہک کر قران پڑھ رہے تھے-
میں نے پاس جا کر سلام کیا-
جواب دینے کی بجائے انہوں نے سبق سناتے ہوئے "یارُو" کی کُھتّی میں زور کی چپت لگائ اور دھاڑے:
جواب دینے کی بجائے انہوں نے سبق سناتے ہوئے "یارُو" کی کُھتّی میں زور کی چپت لگائ اور دھاڑے:
"کھڑی زبر ... حرام دیا ... کھڑّی زبر !!!"
یارُو 12 سال کا تھا- اسکول میں چل نہ سکا اور اب 5 سال سے نوارانی قاعدہ بھگت رہا تھا-
یارُو نے " ہے کھڑی زبر ہا" کا ورد شروع کر دیا اور میں ہاتھ باندھے کھڑا رہا-
اچانک حضرت جی میری طرف متوجّہ ہوئے اور کہا:
اچانک حضرت جی میری طرف متوجّہ ہوئے اور کہا:
" بہہ جاء .... توں کیوں کھڑاں ... !!!"
اس سے پہلے کہ میں پوری طرح بیٹھتا انہوں نے یارو ُ کے ایک اور چپت لگائ اور دھاڑے :
" اُلّو دیا پٹھیا .... کاف دو زبر کن ، میم دو زبر من ، لام دو زبر ........ !!! "
اس پر شاگردان مونہہ چھپا کر ہنسے اور میں مونہہ لٹکا کر بیٹھ گیا-
کچھ ہی دیر بعد یہ متشدّد محفل برخواست ہوئ- بچّے قاعدے سپارے اٹھائے یوں بھاگے جیسے پنجرے سے قیدی چڑیاں-
مسجد خالی ہو گئ تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے:
" توں .... دُوجی شادی کر لئ ؟؟ ... اینا چھیتی ....؟؟ "
میرے رگ و پے میں سردی سرایت کر گئ- مجھے خدشہ ضرور تھا مگر اچانک اس سوال کی توقع نہ تھی- مولوی نزیر کی نظریں میرے چہرے پر گڑ گئیں اور میں مسجد کی صفوں میں پناہ تلاش کرنے لگا-
وہ دوبارہ گویا ہوئے:
" میں فارسی بولی یا کَن وَجّے آ تیرے ... ؟؟ بولدا کیوں نئیں ؟؟ ... "
میں نے فوراً اپنا کان کھُجایا اور جواب دینے کی کوشش کی:
" جج .....جی ..... وہ .... پرانی والی کو ..... ہی واپس لایا ہوں !!!!"
وہ کچھ دیر داڑھی کُھجاتے ہوئے مجھے گھورتے رہے پھر استفسار کیا:
" توں ووھٹی نوُں طلاق دِتّی سی یا مذاق کیتا ... ؟؟"
میں نے کھنگار کر گلہ صاف کیا ، پھر اپنی جیب ٹٹولتے ہوئے کہا:
"ایِک دفعہ ..... دی تھی .... اب .... رجوع فرما لیا ہے"
ان کے چہرے پر لمحہ بھر کو مسکراہٹ ابھری ، پھِر اچانک ہی دوبارہ تاؤ کھا کر بولے:
"فیر شاید میرے کن وجّے آ .... اس روز تے بکواس کر ریاں سے کہ 8 دفعہ دِتّی طلاق ؟؟ "
میں اس سوال کےلئے تیّار تھا- فوراً جیب سے فتوی نکال کر سامنے رکھا اور پورے اعتماد سے کہا:
" مولوی بشیر سَلفی ، اک مینارہ مسجد ، گِدڑ پنڈی والے کا فتوی ہے کہ ایک محفل میں چاہے جتنی بار طلاق دو ، نشانے پر صرف ایک ہی لگتی ہے ... !!! "
انہوں نے غصیلی آنکھوں اور کانپتے ہاتھوں سے سرسری انداز میں فتوی دیکھا پھر کاغذ تہہ کر کے میرے مونہہ پر مارتے ہوئے بولے:
" لعنت بھیجداں میں مولی بشیر تے ، تے اوس دے فتویاں تے .... بُڈھی نوں واپس چھڈ کے آ .......... گِدڑ پِنڈی دا سالا !!!"
میرے کان سُرخ ہو گئے- میں نے اُٹھتے ہوئے کہا:
" بُڈھی تو اب واپس نہیں جائے گی مولوی صاحب .... چاہے لگ جان ہتھکڑیاں ... !!! "
وہ بھی اُٹھ کھڑے ہوئے اور بولے:
" ہتھکڑی تے ویکھی جائے گی .... پر اِک زانی مسیت دے کوارٹر وِچ نئیں رہ سگدا ....!! "
میرے کان مزید سرخ ہو گئے- میں نے تلملا کر کہا:
"زانی ؟؟ .... کون زانی ؟؟"
وہ بولے:
" تُوں .... ہور کون ؟؟ ... جہڑا بُڈھی نوں طلاق دے کے اوس نال مونہہ کالا کردا فرداں ... پُتّر شریعت نافذ ہوندی تے میں تینوں 80 دُرّے مرؤندا .... !!! "
میں بے اختیار اپنی پیٹھ کھجاتا ہوا بغیر سلام کئے وہاں سے رُخصت ہوا اور تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا مسجد سے باہر آ گیا-
Story: QISSA HATIM TAI
Sub Story: Mullan Pur Ka Sain
Region: A Village near Kamalia Toba Tek Sing
Era: 1980,s
Theme: Religion &Society
A classical factious novel based on true story.
Names and places are not real.
Sub Story: Mullan Pur Ka Sain
Region: A Village near Kamalia Toba Tek Sing
Era: 1980,s
Theme: Religion &Society
A classical factious novel based on true story.
Names and places are not real.


No comments:
Post a Comment