ڈیڑھ صدی کا قصہ.....(1).....ظفرجی کے قلم سے
میں نے پہلی بار اس بابا کو سٹی کورٹ میں دیکھا- میں اپنے کچھ ضروری کاغذات اور فائلوں کی چھان پھٹک کےلیے یہاں آیا تھا- اس کی سفید براق داڑھی.... سرخ ٹوپی اور کوٹ میری توجہ کا مرکز بن گیا - وہ مجھ سے مدرسے کےلیے چندہ مانگ رہا تھا-
میں نے اس کے سراپا سے اس کا مسلک کھوجنے کی کوشش کی - پھر کچھ سوچ کر دس کا نوٹ اس کی ہتھیلی پر دھرا اور وہ شکریہ کہ کر باہر نکل گیا- لمبے قد اور بھاری بھر کم وجود والا یہ بابا مجھے کچھ مانوس سا لگا -
وہ چلا گیا تو میں نے کلرک سے ازراہ تجسس اس بابا کے بارے جاننا چاھا - کلرک بے دھیانی سے بولا "کون سا بابا ?" اور اپنے کام میں مصروف ہوگیا- میں نے بھی مزید بحث مناسب نہ سمجھی اور اپنا کام نپٹا کر گھر آگیا-
کچھ دنوں بعد وہ پھر نظر آیا - اس دن میں اور بشیر خیبر ہوٹل پر ڈنر کےلیے آئے تھے- وہ تیر کی طرع سیدھا میرے پاس آیا-
"صاحب !! اگر آپ ہمیں ایک طعام کے مصداق روپے عنایت فرما دیں تو مدرسے کے فنڈ میں آپ کا حصہ ہو جائے گا-"اس نے انتہائ ملائمت سے کہا-
"میں چندہ مانگنے کی اس جدید لکھنوی تکنیک پر مسکرایا اور جیب سے بیس کا نوٹ نکال کر اسے تھما دیا -
اس کے جانے کے بعد میں نے بشیر سے پوچھا - " آپ نے اس بابا کو دیکھا ??"
" کون سا بابا " بشیر مینیو سے سر اٹھاتے ہوئے بولا-
"وہ....جو ابھی یہاں کھڑا تھا " میں نے کہا
بشیر نے ادھر اُدھر گردن گھمائ... پھر بے یقینی سے مجھے گھورنے لگا- میں جانتا تھا کہ لالا صرف اپنے مطلب کی چیز ہی دیکھتا ہے....اس لئے خاموش ہو گیا-
کوئ دو ہفتے بعد ایک شب اچانک میری آنکھ کھل گئ - میرے جاگنے کی وجہ تیز ہوا سے کھڑکھڑانے والی کھڑکی تھی -
کھڑکی بند کرنے لگا تو نگاہ فلیٹ کے سامنے والے روڈ پر ٹک گئ - سڑک کنارے وہی بابا مجھے فٹ پاتھ کے بنچ پر بیٹھا نظر آیا - کچھ دیر اسے ٹکٹکی باندھے دیکھنے کے بعد میں نے شرٹ پہنی اور تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا- میرا اردہ آج اس سے کچھ پوچھنے کا تھا -
وہ اپنے چرمی بیگ سے مڑے تڑے نوٹ نکال کر گن رہا تھا -
"سنائیے....حضرت....مدرسے کے پیسے پورے ہوئے کہ نہیں " میں نے پاس جا کر بم پھوڑا - مجھے امید تھی وہ کچھ کھسیانا ہو جائے گا-
اس نے دفعتا سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور مسکرایا "نہیں صاحب...155 لاکھ کا ٹارگٹ ہے - ابھی کچھ وقت لگے گا-" اور دوبارہ نوٹ گننے لگا -
"15 لاکھ " میں زیرلب بڑبڑایا- "کون سا مدرسہ ہے حضرت" میں نے استسفار کیا -
"محمڈن اوریئنٹل کالج" اس نے میری طرف دیکھے بغیر کہا-
" محمڈن اورینٹل......پہلی بار سنا ہے ......کہاں بن رہا ہے" میں نے حیرانی سے پوچھا-
"علی گڑھ میں" اس نے روپے اپنے چرمی بیگ میں رکھتے ہوئے کہا-
"علی گڑھ........کون سا علی گڑھ ?? " میں نے حیرت سے پوچھا -
"تم نہیں سمجھ سکو گے" - اس نے سپاٹ لہجے میں کہا -
"آپ سمجھائیں گے تو شاید سمجھ جاؤں " میں نے کہا
" کچھ باتیں سمجھنے کےلیے تاریخ کے پاتال میں اترنا پڑتا ہے...اترو گے..??." اس کا لہجہ پرسرار تھا-
"تاریخ......کا پاتال.....کیا مطلب..??....تاریخ تو پڑھی جاتی ہے.....لکھی جاتی ہے....." میں نے کہا-
"تاریخ لکھ کر داد سمیٹنا بہت آسان ہے.....لیکن تاریخ کے پاتال میں اترنا بہت مشکل...." یہ کہ کر وہ اپنا بیگ سمیٹ کر اٹھ کھڑا ہوا-
میں محویت سے اسے دیکھتا رہا.....
"کہاں چل دیے...حضرت " میں نے پوچھا-
"واپسی کا ٹائم ہو گیا.....کافی دیر ہوگئ نکلے ہوئے..." بابا جی نےکہا-
"کہاں رہتے ہیں آپ" میں نے پوچھا
"ڈیڑھ صدی کے فاصلے پر....." بابا جی نے کہا
"ڈیڑھ صدی " میں مسکرایا " کیا میں آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں" میں نے شرارتاً کہا-
"ضرور....لیکن بور ہو جاؤ گے...." بابا جی نے کہا-
"آپ کے ساتھ رہ کے کون کافر بور ہوسکتا ہے....چلیں ....میں سچ میں تیار ہوں....." میں نے ہنستے ہوئے کہا-
اس کے بعد مجھے اتنا یاد ہے کہ بابا جی نے اپنا داہناں ہاتھ میری طرف بڑھایا تھا....شاید مصافحہ بھی کیا تھا....میں نے پہلی بار ان کو پہچانا.....پسینہ میری چوٹی سے بہہ نکلا....پھر کچھ یاد نہیں... میری آنکھوں کے سامنے دھند سی چھانے لگی اور میں بے ہوش ہو گیا-
میں نے اس کے سراپا سے اس کا مسلک کھوجنے کی کوشش کی - پھر کچھ سوچ کر دس کا نوٹ اس کی ہتھیلی پر دھرا اور وہ شکریہ کہ کر باہر نکل گیا- لمبے قد اور بھاری بھر کم وجود والا یہ بابا مجھے کچھ مانوس سا لگا -
وہ چلا گیا تو میں نے کلرک سے ازراہ تجسس اس بابا کے بارے جاننا چاھا - کلرک بے دھیانی سے بولا "کون سا بابا ?" اور اپنے کام میں مصروف ہوگیا- میں نے بھی مزید بحث مناسب نہ سمجھی اور اپنا کام نپٹا کر گھر آگیا-
کچھ دنوں بعد وہ پھر نظر آیا - اس دن میں اور بشیر خیبر ہوٹل پر ڈنر کےلیے آئے تھے- وہ تیر کی طرع سیدھا میرے پاس آیا-
"صاحب !! اگر آپ ہمیں ایک طعام کے مصداق روپے عنایت فرما دیں تو مدرسے کے فنڈ میں آپ کا حصہ ہو جائے گا-"اس نے انتہائ ملائمت سے کہا-
"میں چندہ مانگنے کی اس جدید لکھنوی تکنیک پر مسکرایا اور جیب سے بیس کا نوٹ نکال کر اسے تھما دیا -
اس کے جانے کے بعد میں نے بشیر سے پوچھا - " آپ نے اس بابا کو دیکھا ??"
" کون سا بابا " بشیر مینیو سے سر اٹھاتے ہوئے بولا-
"وہ....جو ابھی یہاں کھڑا تھا " میں نے کہا
بشیر نے ادھر اُدھر گردن گھمائ... پھر بے یقینی سے مجھے گھورنے لگا- میں جانتا تھا کہ لالا صرف اپنے مطلب کی چیز ہی دیکھتا ہے....اس لئے خاموش ہو گیا-
کوئ دو ہفتے بعد ایک شب اچانک میری آنکھ کھل گئ - میرے جاگنے کی وجہ تیز ہوا سے کھڑکھڑانے والی کھڑکی تھی -
کھڑکی بند کرنے لگا تو نگاہ فلیٹ کے سامنے والے روڈ پر ٹک گئ - سڑک کنارے وہی بابا مجھے فٹ پاتھ کے بنچ پر بیٹھا نظر آیا - کچھ دیر اسے ٹکٹکی باندھے دیکھنے کے بعد میں نے شرٹ پہنی اور تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا- میرا اردہ آج اس سے کچھ پوچھنے کا تھا -
وہ اپنے چرمی بیگ سے مڑے تڑے نوٹ نکال کر گن رہا تھا -
"سنائیے....حضرت....مدرسے کے پیسے پورے ہوئے کہ نہیں " میں نے پاس جا کر بم پھوڑا - مجھے امید تھی وہ کچھ کھسیانا ہو جائے گا-
اس نے دفعتا سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور مسکرایا "نہیں صاحب...155 لاکھ کا ٹارگٹ ہے - ابھی کچھ وقت لگے گا-" اور دوبارہ نوٹ گننے لگا -
"15 لاکھ " میں زیرلب بڑبڑایا- "کون سا مدرسہ ہے حضرت" میں نے استسفار کیا -
"محمڈن اوریئنٹل کالج" اس نے میری طرف دیکھے بغیر کہا-
" محمڈن اورینٹل......پہلی بار سنا ہے ......کہاں بن رہا ہے" میں نے حیرانی سے پوچھا-
"علی گڑھ میں" اس نے روپے اپنے چرمی بیگ میں رکھتے ہوئے کہا-
"علی گڑھ........کون سا علی گڑھ ?? " میں نے حیرت سے پوچھا -
"تم نہیں سمجھ سکو گے" - اس نے سپاٹ لہجے میں کہا -
"آپ سمجھائیں گے تو شاید سمجھ جاؤں " میں نے کہا
" کچھ باتیں سمجھنے کےلیے تاریخ کے پاتال میں اترنا پڑتا ہے...اترو گے..??." اس کا لہجہ پرسرار تھا-
"تاریخ......کا پاتال.....کیا مطلب..??....تاریخ تو پڑھی جاتی ہے.....لکھی جاتی ہے....." میں نے کہا-
"تاریخ لکھ کر داد سمیٹنا بہت آسان ہے.....لیکن تاریخ کے پاتال میں اترنا بہت مشکل...." یہ کہ کر وہ اپنا بیگ سمیٹ کر اٹھ کھڑا ہوا-
میں محویت سے اسے دیکھتا رہا.....
"کہاں چل دیے...حضرت " میں نے پوچھا-
"واپسی کا ٹائم ہو گیا.....کافی دیر ہوگئ نکلے ہوئے..." بابا جی نےکہا-
"کہاں رہتے ہیں آپ" میں نے پوچھا
"ڈیڑھ صدی کے فاصلے پر....." بابا جی نے کہا
"ڈیڑھ صدی " میں مسکرایا " کیا میں آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں" میں نے شرارتاً کہا-
"ضرور....لیکن بور ہو جاؤ گے...." بابا جی نے کہا-
"آپ کے ساتھ رہ کے کون کافر بور ہوسکتا ہے....چلیں ....میں سچ میں تیار ہوں....." میں نے ہنستے ہوئے کہا-
اس کے بعد مجھے اتنا یاد ہے کہ بابا جی نے اپنا داہناں ہاتھ میری طرف بڑھایا تھا....شاید مصافحہ بھی کیا تھا....میں نے پہلی بار ان کو پہچانا.....پسینہ میری چوٹی سے بہہ نکلا....پھر کچھ یاد نہیں... میری آنکھوں کے سامنے دھند سی چھانے لگی اور میں بے ہوش ہو گیا-
Some events and characters of this serial are fictitious.


No comments:
Post a Comment