ڈیڑھ صدی کا قصہ.....(2).....ظفرجی کے قلم سے
مجھے یاد نہیں میں کتنی دیر بے سدھ پڑا رہا-
شدید گرمی اور حبس سے میری آنکھ کھلی - یوں لگا جیسے دن چڑھ آیا ہو... شاید سورج کافی اونچا نکل آیا تھا اور گرمی جسم کو پگھلا رہی تھی-
" صاحب....اٹھیے......... اب اٹھ بھی جائیے....کب تک سوئے رہیں گے " مجھے کوئ جگا رہا تھا-
میں نے آنکھیں ملتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کی- پھرکافی دیر تک ششدر ہوکربیٹھا رہا- رات والے بابا جی سامنے بیٹھے اپنے چرمی بیگ میں کچھ تلاش کر رہے تھے - اور اب میں یقین سے کہ سکتا تھا کہ وہ کوئ اور نہیں...... سرسید احمد خان ہی تھے-
"اٹھارہویں صدی میں خوش آمدید.......کیسا ہے بچے...؟؟ " انہوں نے میری طرف مشفقانہ نگاہوں سے دیکھا-
میں صرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں دیکھتا رہا.....وہ دوبارہ اپنے بیگ میں کچھ تلاش کرنے لگے....
" سر....." میں نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا " یہ سب کیا ہو رہا ہے ....یہ خواب ہے یا حقیقت.؟...آپ سرسید ....؟"
" سرسید احمدخان بہادر کے سی ایس آئ.." انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا -
" میں کہاں ہوں....؟ " میں نے حیرانی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا-
"جبل پور.......سنا ہے جبل پور کا نام ?? " انہوں نے کہا-
" جبل پور....یا.....علی گڑھ..."میں نے آنکھیں ملتے ہوئے پوچھا-
" جبل پور....صبح کے آٹھ بج چکے ہیں " انہوں نے ٹیبل پر رکھے ایک پرانے ٹائم پیس پر نظر ڈالی .." آج 3 اپریل 1869 ہے....آپ ہمارے ساتھ لندن جارہے ہیں...اب اٹھیے اور تیاری پکڑیے " سرسید نے کہا
" لندن....وہ کس لئے.... " میں نے حیرانی سے چاروں جانب دیکھا -
"تاکہ تمھاری تاریخ کے ڈھیلے تار کسے جا سکیں..." انہوں نے بیگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا- " باقی سوال راستے میں.....لیکن ابھی اٹھ جاؤ مرزا سواری لے کے آتا ہی ہوگا....ابھی ناگ پور جانا ہے - وہاں سے بمبئ.....پھر لندن ....کافی لمبا سفر ہے........." سر سید نے کہا-
"لیکن.....سر.....میں واپس کیسے جاؤں گا" میں نے پھنسی پھنسی آواز سے کہا-
"بے فکر رہو.....وہ انگوٹھی اتار دینا " سرسید نے کہا-
میں نے پہلی بار اپنی بائیں انگشت شہادت میں نیلے فیروزے کی انگوٹھی دیکھی-
اب میرے ہوش پوری طرح بحال ہو چکے تھے- میں نے پہلی بار ادھر اُدھر توجہ کی - یہ ایک پرانی طرز کا کمرہ تھا - لیکن صاف ستھرا اور ہوادار - فرنیچر بھی پرانی وضح کا تھا...چھت ہر ایک بڑا سا جھاڑ لگا ہوا تھا...شاید پرانے زمانے کا سیلنگ فین تھا....جسے رسی سے کھینچ کر چلایا جاتا تھا....کھڑکی سے باہر جھانکا تو ہر طرف پرانی طرز کے مکانات نظر آئے ....جن کے آگے چھولداریاں بنی ہوئ تھیں - قمیض سے بے نیاز دھوتی پہنے کچھ لوگ ادھر اُدھر گھوم رہے تھے - کچھ عورتیں بھی نظر آئیں....اور ننگ دھڑنگ کھیلتے بچے بھی -
"کمال ہو گیا.....یہ تو واقعی کمال ہوگیا...." میرے منہ سے نکلا
" تاریخ لکھتے لکھتے میں خود تاریخ بن گیا....کیا جادونگری ہے..واہ !!! "
یکایک کمرے کا دروازہ بجا اور ایک بوڑھے انگریز نے اندر جھانکا
"مسٹر سید.....آپ کا شکرم پونچ گیا....."
" چلئے مابدولت......شکرم آگئ" .سرسید جی کی آواز آئ
"شکرم......کون سی شکرم..." ہم نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا-
سر سید مسکرائے اور کہا "نیچے کھڑی ہے شکرم...اوپر تھوڑی آئے گی.....اب چلو...." یہ کہ کر انہوں نے اپنا سامان اٹھایا...اور چل پڑے-
میں ان کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں اترنے لگا - یہ غالبا کوئ ہوٹل تھا جس میں سر سید ٹھہرے ہوئے تھے.....اور اب شکرم پر بیٹھ کر اگلی منزلوں کو روانہ ہونے والے تھے -
نیچے اتر کر دیکھا تو ہوٹل کے گیٹ پر دو بیل گاڑیاں کھڑی تھیں- جن پر خوبصورت سرخ تمبو تنے ہوئے تھے-
سرسید نے بیل گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا " یہ ہوتی ہے شکرم....تم لوگ کیا کہتے ہو اسے...."
میں نے ہکا بکا ہوکر شکرم کو دیکھا اور کچھ سوچ کر کہا... "میٹرو"
شدید گرمی اور حبس سے میری آنکھ کھلی - یوں لگا جیسے دن چڑھ آیا ہو... شاید سورج کافی اونچا نکل آیا تھا اور گرمی جسم کو پگھلا رہی تھی-
" صاحب....اٹھیے......... اب اٹھ بھی جائیے....کب تک سوئے رہیں گے " مجھے کوئ جگا رہا تھا-
میں نے آنکھیں ملتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کی- پھرکافی دیر تک ششدر ہوکربیٹھا رہا- رات والے بابا جی سامنے بیٹھے اپنے چرمی بیگ میں کچھ تلاش کر رہے تھے - اور اب میں یقین سے کہ سکتا تھا کہ وہ کوئ اور نہیں...... سرسید احمد خان ہی تھے-
"اٹھارہویں صدی میں خوش آمدید.......کیسا ہے بچے...؟؟ " انہوں نے میری طرف مشفقانہ نگاہوں سے دیکھا-
میں صرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں دیکھتا رہا.....وہ دوبارہ اپنے بیگ میں کچھ تلاش کرنے لگے....
" سر....." میں نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا " یہ سب کیا ہو رہا ہے ....یہ خواب ہے یا حقیقت.؟...آپ سرسید ....؟"
" سرسید احمدخان بہادر کے سی ایس آئ.." انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا -
" میں کہاں ہوں....؟ " میں نے حیرانی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا-
"جبل پور.......سنا ہے جبل پور کا نام ?? " انہوں نے کہا-
" جبل پور....یا.....علی گڑھ..."میں نے آنکھیں ملتے ہوئے پوچھا-
" جبل پور....صبح کے آٹھ بج چکے ہیں " انہوں نے ٹیبل پر رکھے ایک پرانے ٹائم پیس پر نظر ڈالی .." آج 3 اپریل 1869 ہے....آپ ہمارے ساتھ لندن جارہے ہیں...اب اٹھیے اور تیاری پکڑیے " سرسید نے کہا
" لندن....وہ کس لئے.... " میں نے حیرانی سے چاروں جانب دیکھا -
"تاکہ تمھاری تاریخ کے ڈھیلے تار کسے جا سکیں..." انہوں نے بیگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا- " باقی سوال راستے میں.....لیکن ابھی اٹھ جاؤ مرزا سواری لے کے آتا ہی ہوگا....ابھی ناگ پور جانا ہے - وہاں سے بمبئ.....پھر لندن ....کافی لمبا سفر ہے........." سر سید نے کہا-
"لیکن.....سر.....میں واپس کیسے جاؤں گا" میں نے پھنسی پھنسی آواز سے کہا-
"بے فکر رہو.....وہ انگوٹھی اتار دینا " سرسید نے کہا-
میں نے پہلی بار اپنی بائیں انگشت شہادت میں نیلے فیروزے کی انگوٹھی دیکھی-
اب میرے ہوش پوری طرح بحال ہو چکے تھے- میں نے پہلی بار ادھر اُدھر توجہ کی - یہ ایک پرانی طرز کا کمرہ تھا - لیکن صاف ستھرا اور ہوادار - فرنیچر بھی پرانی وضح کا تھا...چھت ہر ایک بڑا سا جھاڑ لگا ہوا تھا...شاید پرانے زمانے کا سیلنگ فین تھا....جسے رسی سے کھینچ کر چلایا جاتا تھا....کھڑکی سے باہر جھانکا تو ہر طرف پرانی طرز کے مکانات نظر آئے ....جن کے آگے چھولداریاں بنی ہوئ تھیں - قمیض سے بے نیاز دھوتی پہنے کچھ لوگ ادھر اُدھر گھوم رہے تھے - کچھ عورتیں بھی نظر آئیں....اور ننگ دھڑنگ کھیلتے بچے بھی -
"کمال ہو گیا.....یہ تو واقعی کمال ہوگیا...." میرے منہ سے نکلا
" تاریخ لکھتے لکھتے میں خود تاریخ بن گیا....کیا جادونگری ہے..واہ !!! "
یکایک کمرے کا دروازہ بجا اور ایک بوڑھے انگریز نے اندر جھانکا
"مسٹر سید.....آپ کا شکرم پونچ گیا....."
" چلئے مابدولت......شکرم آگئ" .سرسید جی کی آواز آئ
"شکرم......کون سی شکرم..." ہم نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا-
سر سید مسکرائے اور کہا "نیچے کھڑی ہے شکرم...اوپر تھوڑی آئے گی.....اب چلو...." یہ کہ کر انہوں نے اپنا سامان اٹھایا...اور چل پڑے-
میں ان کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں اترنے لگا - یہ غالبا کوئ ہوٹل تھا جس میں سر سید ٹھہرے ہوئے تھے.....اور اب شکرم پر بیٹھ کر اگلی منزلوں کو روانہ ہونے والے تھے -
نیچے اتر کر دیکھا تو ہوٹل کے گیٹ پر دو بیل گاڑیاں کھڑی تھیں- جن پر خوبصورت سرخ تمبو تنے ہوئے تھے-
سرسید نے بیل گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا " یہ ہوتی ہے شکرم....تم لوگ کیا کہتے ہو اسے...."
میں نے ہکا بکا ہوکر شکرم کو دیکھا اور کچھ سوچ کر کہا... "میٹرو"
Some events and characters of this story are fictitious


No comments:
Post a Comment