قصّہ حاتم طائ --32--ظفرجی
حمام بارگرد ---آخری قسط
تھوڑی دیر بعد دوکاندار بتّی لئے آن موجود ہوا- پھر چہار سوُ دیکھتے ہوئے بولا:
"بتّی کِتھّے لونڑیں .... ؟؟"
میں نے عرض کی:
" خواجہ !!! لونڑیں تو دوچرخہ پر تھی مگر اب وہ چرخِ نیلی فام سے پرے جا چُکا ..... بندہ حاضر خِدمت ہے جہاں جی چاھے لگا دیجئے .... !!! "
وہ بولا:
" کی مطبل ؟؟ سیکل کِتھّے گئ ... ؟؟"
میں نے کہا:
" جتھّے گئ .... وہاں سے اب قیامت کو ہی لوٹے گی- جو شخص میرے ساتھ آیا تھا نوسرباز نکلا- کوئ دم کو میں دھیان میں لگا تو لے اُڑا .... !!! "
وہ سمجھا کہ میں ٹھٹّھا کرتا ہوں ، مجھے چھوڑ کر اپنے کام میں مصروف ہو گیا-
دوپہر سے شام ہو گئ- میں بدنصیب دکان پر بیٹھا سوکھتا رہا- آخر کو وہ سائیکل فروش بول اُٹھا:
"اب کس چیز کا انتظار کرتے ہو- بتّی کے پیسے تو ھو چُکے- باقی سائیکل کے کُل ملا کر سات ہزار دو سو چوالیس بنتے ہیں- حساب چکتا کرو ہمیں دکان بھی بڑھانی ہے"
اس پر بحث شروع ہو گئ اور مجمع اکٹھا ہونے لگا- دکان دار واہی تباہی بکنے لگا- میں نے کہا قسم لے لو ، میں کوٹ سنجان سنگھ کا نائ ہوں- یہ شخص پہلے بھی میری حجامت کر چُکا ہے- اب پھر اُسترا پھیر کر چلا گیا-
اس پر دکاندار بولا تم ہی فرمائشیں کر کر کے لوازمات لگوا رہے تھے- اگر وہ نوسرباز تھا تو تم ضروُر اس کے ساتھی ہو- پیسے نکالو ورنہ کوتوالی کا رستہ ہی بچتا ہے-
بہرحال مجمع سے کچھ شرفاء نے آگے بڑھ کر معاملہ ختم کرایا کہ غریب آدمی ہے- قسطیں بنا دو- بھلے شناخت نامہ رہن رکھ لو- لیکن جانے دو-
یک نہ شُد دو شُد- شام کو یہ فقیر ایک اور سائیکل کا مقروض ہو کر جوتے چٹخاتا موسی ورک پہنچ گیا-
کوئ تین ماہ بعد میں کسی کارِ زیاں سے خانیوال کچہری گیا- اشٹام فروش کے پاس کھڑا تھا کہ نگاہ ایک شناسا چہرے پہ جاکے پیوست ہوئ-
وہ سخی پہلے تو مجھے دیکھ کر کُچھ گھبرایا پھر دھاڑیں مارتا زبردستی میرے گلے لگ گیا- میں نے ہر ممکن اس بلاء سے خود کو چھڑانے کی کوشش کی مگر وہ تو جیسے برسوں کا ترسا ہوا تھا ، ہچکیوں پہ ہچکیاں لیے جاتا تھا-
میں نے کہا:
"خدا سے معافی مانگو ... وہ معاف کرنے والا ہے .... میں نے تو روپیٹ کر صبر کر ہی لیا "
وہ بولا:
" افسوس کہ آپ مجھے سمجھ ہی نہ پائے- میرا نام چوھدری اقبال ہے- دو مربعے زمین کا مالک ہوں- خانیوال میں اپنی کوٹھی ہے- دو بیٹے دوبئ میں اپنا کاروبار کرتے ہیں- ایک بیٹی ڈاکٹر ہے- کیا میں ایک سائیکل کےلئے اپنا دین ایمان بیچوں گا ؟"
میں نے کہا:
" خواجہ !!! میری خطاکار بصارت نے یہی دیکھا کہ آپ دھوکہ دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے !!! "
وہ بولا:
" لاعلمی واقعی دھوکہ ہے-جو مجھ پر بیتی تمہیں کیا معلوم- اُس روز جب میں سائیکل لے کر نکلا تو دل میں کوئ خیال مفسدی کا نہ تھا- سوچا ایک بار چلا کر آزما لوں- تمہیں بعد میں تکلیف نہ ہو- مگر افسوس میرے نصیب میں یہ کارِ خیر نہ تھا- ریلوے بازار سے نکل کر جیسے ہی جی ٹی روڈ پر آیا ، ایک تیز رفتار کار مجھ سے ٹکرا گئ- میں قلابازیاں کھاتا دور جا گرا- لوگ اٹھا کر ھسپتال لے گئے- اگلے روز دس بجے ہوش آیا تو گھر رابطہ کیا- پھر خانیوال سے میری دخترِ نیک اختر آ کر مجھے لے گئ- ایک ماہ تک بستر پر لگا رہا ہوں- کئ بار سوچا کہ تمہارے پاس جاؤں ، پھر خیال آتا کہ تھوڑی صحت بحال ہو جائے تو چلا جاؤں گا- قدرت نے آج تم سے ملاقات کرا ہی دی- ابھی میرے ساتھ چلو- میں تمہیں نئ سائیکل خرید کر دیتا ہوں"
میں نے کہا:
" خواجہ !!! میرے دل سے سائیکل کی تمنا مفقود ہو چکی- بس اتنا دُکھ ضرور ہے کہ تمہاری وجہ سے میرا بڑا بیٹا جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوا ، ماں کے پیٹ میں ہی ، 13 ہزار کا مقروض ہو چکا ہے- تم بس اتنی عنایت کر دو کہ اُس یتیم کا قرض چکا دو "
وہ بولا:
"ٹھیک ہے جس طرح تم راضی- ابھی میری کوٹھی پہ چلو- تمہارا نقصان پوُرا کرتا ہوں"
-
اس نے تاکسی رکوائ ، مجھے ہمراہ کیا اور سائق کو گُجّر کالونی جانے کو کہا-
-
اس نے تاکسی رکوائ ، مجھے ہمراہ کیا اور سائق کو گُجّر کالونی جانے کو کہا-
نصف گھنٹہ تک مختلف گلیوں میں بھٹکتے آخر ھم گُجر کالونی پہنچے- اس نے سواری ایک بڑی حویلی کے سامنے رکوائ اور سائق کو انتظار کرنے کا کہا- پھر حویلی کا مرکزی دروازہ کھول کر اندر چلا گیا-
میں اور سائق باہر کھڑے انتظار کرتے رہے- کوئ بیس منٹ تک وہ نہ لوٹا تو تشوِیش ہوئ- سائق بولا مجھے تاخیر ہو رہی ہے دستک دے کر بلوا لو-
میں نے آگے بڑھ کر دستک دی مگر جواب ندارد- پھر تھوڑا دھکا دیا تو دروازہ کھلتا ہی چلا گیا-
اندر کچھ نہ تھا- ماسوائے چند حیوانات کے جو برامدوں میں ایستادہ کھرلیوں پر چارا گری کرتے تھے ، اور تین بالکوں کے جو صحن میں اخروٹ کھیلتے تھے-
ھم اندر داخل ہو گئے- اس دخل در نامعقول پر بھینس نے ایک طویل " راں" کر کے احتجاج کیا--باقی جانوروں نے صرف کان کھڑے کیے ، بچے البتہ سہم کر الگ ہو گئے-
میں نے کہا ابھی ابھی جو شخص اندر آیا تھا وہ کہاں ہے-
وہ سہم کر چُپ رہے-
میں تیز تیز چلتا برامدے کے پچھواڑے میں گیا- یہاں ایک جنگل نماء باغیچہ تھا- میں خودرو جھاڑیوں سے گزرتا دوسری طرف گیا جہاں لکڑی کا ایک سال خوردہ دروازہ کھُلا پڑا تھا-
بچے نے کہا:
" یہاں کوئ نہیں رہتا- یہ تو حاجی بشیر گجر کا باڑہ ہے- دودھ لینا ہے تو شام کو آ جانا"
اس دوران تاکسی والا بیزاری سے بولا:
پائ جی مینوں فارغ کرو !!!
میں نے کہا:
" کیا مطلب ؟؟"
کہنے لگا پانچ سو میں بات ہوئ تھی- آپ بھلے تین سو دے دیں !!!
میں نے سُکھ کی ایک طویل سانس لی اور کرایہ ادا کر کے اسے رخصت کیا- اس بار نوسرباز نے کافی ہلکا ہاتھ رکھا تھا ، شاید اس کو مجھ پر رحم آ گیا ہو- یا شاید موقع نہ ملا ہو- یہ بھی ممکن ہے وہ مجھے کچھ مہلت دینا چاھتا ہو تاکہ میں مالی طور پر تھوڑا اچھا ہو جاؤں-
مجھے یقین ہے وہ پھر آئے گا .... بار بار آئے گا .... اور تب تک آتا رہے گا جب تک اس میں دھوکہ دینے کی صلاحیت اور مجھ میں دھوکہ کھانے کی عادت باقی ہے !!!
STORY: Qissa Hatim Tai (Episode 32)
SUB STORY: Hammam Bargurd. Last Episode
Theme: Deception &Fraud
Based on a real insident


No comments:
Post a Comment