DADH SADI KA QISSA Ep#11



ڈیڑھ صدی کا قصہ....11....ظفرجی

دوپہر کا کھانا ہم نے ھوٹل میں آکر کھایا- اسی دوران ایک اونچے شملے والا چاک و چوبند بیرا سجی سجائ ٹوکری لیے سیّد صاحب کے پاس آیا-
" صاحب....سہراب جی پارسی نے آپ کی سیوا میں امب بھجوائے ہیں..."
اس نے کہا-
سرسیّد نے سر کی جنبش سے امب کو شرف قبولیت بخشا اور بیرا ٹوکری ٹیبل پر سجا کے چلا گیا-
 کھانے سے فارغ ہوکر ہم ھوٹل کے دالان میں چلے آئے اور خوب سیر ہوکر آم کھائے- میں سہراب جی پارسی کی بابت پوچھنے لگا تو معاً خیال آیا کہ پیڑ گننا منع ہے...خصوصاً آم کھاتے وقت-
 سرسید نے بتایا کہ سہ پہر کو دوبارہ شہر جانا ہے- میں نے لگے ہاتھوں سرخ ترک ٹوپی کی فرمائش کر ڈالی- جو مان لی گئ-
 میں باتھ روم سے ہاتھ منہ دھو کے نکلا تو سر سّید قد آدم آئینے کے سامنے کنگھی فرما رہے تھے- میں ہاتھ باندھے اس روح پرور نظارے کا لطف لینے لگا-
"کیا دیکھ رہے ہو جوان " سید صاحب نے مجھے آئینے میں سے جھانکا-
"سر.....کچھ نہیں....ایک سوال کھٹک رہا ہے " میں نے کہا-
"پوچھیے پوچھیے....امب کھا کر شرمانا منع ہے " سرسّید مسکرائے-
 "سر....کچھ...مفسدین....کا فرمانا ہے....کہ.....آپ کی گردن پر کوئ....رسولی ہے.....جس کو چھپانے کےلیے آپ نے داڑھی اوڑھ رکھی ہے" ہم نے جھجھکتے ہوئے پوچھ ڈالا-
 " میرے گلے میں ایک رسولی ہے....ادھر دائیں جانب.....اسی جگہ میرے والد صاحب کی بھی رسولی تھی جو ایک درویش کی توّجہ سے بالکل جاتی رہی...." سرسید نے جواب دیا-
میں نے ایک گہری سانس لی کہ شکر ہے تکا نشانے پہ لگا-
 سرسیدّ بول پڑے " بس اسی بات کا صدمہ ہے ظفرجی .....ھندوستانی مسلمان کو میری داڑھی میں چھپی رسولی تو نظر آگئ....لیکن میرے افکار اس کے سر کے اوپر سے ہی گزر گئے" -
میں تھوڑا جھینپ گیا... لیکن مقابلہ جاری رکھا.....
 "سر ھندوستانی مسلمان کو بھی آپ سے گلہ ہے....کہ آپ ایک درویش کی توجہ کا تو اقرار کرتے ہیں....لیکن نبوّت ، وحی ، ملائکہ ، جنت، دوزخ....سب کا انکار....کیا یہ کھلا تضاد...نہیں "
 "دیکھیں...انکار نہیں....تاویل....میری اپنی تاویل ہے....اپنی تحقیق ہے...آپ اسے تفسیر بالرائے کہ سکتے ہیں....اور میں کسی کو قائل نہیں کرتا کہ میری تفسیر مدارس میں پڑھاتا پھرے....میرے قریبی دوستوں حالی اور شبلی نے بھی مجھ سے اختلاف کیا ہے" سید صاحب نے کہا-
 "لیکن سر....آخر آپ کو ....اس تفسیر بالرائے کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوئ....یہ آپ کا شعبہ نہیں تھا " میں بھی بحث پر آمادہ تھا-
 "میں جانتا ہوں....یہ میرا شعبہ نہیں تھا....لیکن میں یہ بھی نہیں دیکھ سکتا کہ اقوام عالم تو ترقی کے مدارج طے کریں....اور ھندوستانی مسلمان حیات مسیح کے عقیدے سے چمٹا کسی مسیحا کے انتظار میں سوکھتا رہے.... فرشتوں کے نزول کا انتظار کرتا رہے.....غدر کی مار کھانے کے بعد میرے سامنے دو ہی رستے تھے.... اس مافوق الفطرت سوچ کا علاج کروں....یا سب کچھ چھوڑ کر خود بھی امام مہدی کے انتظار میں بیٹھ جاؤں " سرسید نے کہا-
 "سر یہ درست ہے کہ ہندوستانی مسلمان عمل سے زیادہ خدائ جلووں کا منتظر رہتا ہے ....آپ نے بے شک مرض کی درست تشخیص فرمائ تھی....لیکن سرجری کرتے ہوئے شاید غلطی فرما گئے.... پھوڑے کو شریر سے علیہدہ کرنا تھا نہ کہ....پورا بازو کاٹنا تھا..... اب یہ بدقسمت قوم آپ کے لگائے ہوئے پلاسٹک کے نقلی بازو کو ہی اصل بازو سمجھ بیٹھی ہے....اور ہم مولوی اور مسٹر کی خطرناک تقسیم کا شکار ہو چکے ہیں..... دائیاں بازو بائیں بازو کو نہیں مانتا اور بائیاں بازو دائیں بازو کی سننے کو تیار نہیں" میں نے کہا-
 " تم خود ہی بتاؤ میں کیا کرتا....ایک طرف سائنس کا سیلاب تھا...دوسری طرف قدامت پسندی کی دیوار سینہ تانے کھڑی تھی " سر سیّد نے دریافت کیا-
 " آپ سائنس کو مسلمان تو کر سکتے تھے....انگریز کی لکھی سائنسی کتب کا خمیر کوفہ و بغداد کے کتب خانوں کی سوختہ راکھ سے ہی اٹھا تھا " میں نے کہا-
 "مانتا ہوں....کہ یہ اسی کی ترقی یافتہ شکل تھی....میں نے اسی مقصد کےلیے سائنٹیفک سوسائٹی کی بنیاد رکھی....تاکہ انگریزی کتب کا ترجمہ کیا جاسکے....لیکن ملاؤں نے اس پر بھی طوفان کھڑا کر دیا " سرسید بولے
 "سر آپ نے فرمایا تھا کہ علی گڑھ کالج سے نکلنے والے طالب علم کے ایک ہاتھ میں عصری علوم ، دوسرے ہاتھ میں قران ہو گا....اور سر پر خدا کا سایہ....لیکن وہاں سے جو نسل برامد ہوئ....وہ انگلش تہذیب کی دلدادہ تھی اور اپنی تہذیب سے بیزار....اور یہ فرق آج بھی چل رہا ہے....آپ نے انگریز کے جدید علوم کو اسلامی لباس پہنانے کی کوشش کیوں نہ کی....یہ کیسے ممکن ہے کہ طالب علم کے ایک ہاتھ میں آدم و حوا کا تخیل ہو ...اور دوسرے ہاتھ میں ڈارون کا نظریہ"
 "میری بھی کچھ مجبوریاں تھیں صاحب.....علی گڑھ کالج کے دریا کا پانی جتنا بھی میٹھا کر دیتا.....اسے گرنا کلکتہ یونیورسٹی کے اسی سمندر میں تھا.....جہاں ڈارون کا زہر پہلے ہی گھلا ہوا تھا....اور ھندو گنگا جل سمجھ کر اس میں نہا رہے تھے.....میں دریا کی مخالف سمت میں کیسے تیرتا...." سرسید نے توجیع فرمائ-
 "اس لیے آپ نے سائنس کو جوں کا توں رہنے دیا....اور قران کا مفہوم بدلنے نکل کھڑے ہوئے....شاید آپ ہندوستان کے مسلمان کو تعلیم کا وہی زیور پہنانا چاھتے تھے جو انگریز کےلیے قابل قبول ہو" میں نے کہا-
 "میری مجبوری تھی جوان....میں سرکار کا ملازم تھا....ان حالات میں مجھ سے جو بہتر ہو سکا کر دکھایا.....آپ لوگوں کی بھی تو کچھ ذمہ داری ہے....جو میں نہ کر سکا...آپ کر کے دکھا دو....آپ لوگوں نے سائنس کو کتنا مسلمان کیا" سرسید نے پوچھا-
 "ہم لوگوں کی بھی مجبوریاں ہیں سر....ہمارے علمی دریاؤں کا پانی بھی.....آکسفورڈ میں ہی جا کر گرتا ہے...." میں نے ایک آہ بھر کر کہا-
 "تو پھر اتنی دیر سے میرا مغز کیوں کھا رہے ہو....اس لیے کہ میں نے امب کھلائے ہیں..." سرسیّد نے قہقہہ لگایا- میں بھی ہنس پڑا-
" ظفر جی تاریخ پہ تنقید کرنا بہت آسان ہے....تاریخ میں جینا بہت مشکل....اب چلو....ذرا  باہر چلتے ہیں......تاکہ تمہارے دماغ کو بھی کچھ ہوا لگے...." سرسیّد نے کہا اور ہم ھوٹل سے باہر نکل آئے-

No comments:

Post a Comment