ڈیڑھ صدی کا قصہ.....(12).....ظفرجی
ہم سب تیار ہو کر ھوٹل سے نکلے-
ہمارے ساتھ حامد و محمود تھے اور مرزا خداداد بیگ بھی- سرسیّد نے بتایا کہ ہمیں بھنڈی بازار جانا ہے - اس بار ہمیں دو گھوڑا اومنی بس کی چھت پر جگہ ملی- بارش کے بعد بمبئ کا فطری حسن خوب نکھر کر سامنے آیا تھا - وکٹوریا عمارتیں سرسبز درختوں کی اوٹ سے کسی حسینہ کی طرح جھانک رہی تھیں - ہلکی ہلکی رم جھم اب بھی جاری تھی اور مسحورکن ہوا نے موسم عاشقانہ بنا رکھا تھا- میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک پنڈت جی تشریف فرما تھے جنہیں اگلی سیٹ پر بیٹھے ان کے دوست نے "کپور جی" کہ کر آواز دی تو میں چونک پڑا- میں نے سوچا شاید یہی کرینہ کپور کے لکڑداد ہوں.... پھر یاد آیا کہ فلمی کپور خاندان تو فیصل آباد سے آیا تھا...جو کبھی لائل پور ہوا کرتا تھا - یہیں پرتھوی راج کپور پیدا ہوئے...اور پشاور میں تعلیم حاصل کی ...ان سے چلے راج کپور...پھر ان کے بیٹے رندھیر کپور....اور اب ان کی زہرہ جبین...کرشمہ کپور اور کرینہ کپور....بالی ووڈ میں جلوہ گر ہیں....یہ ہے ڈیڑھ صدی کا قصہ !!!
موسم چٹکیاں لے رہا تھا....میں نے سوچا کہ اگر اس موسم میں کسی پر دل آگیا تو بڑی مشکل ہو جائے گی- نہ ماضی کا رہوں گا نہ مستقبل کا- اس خطے کو دوزخ بنانے میں ہمیں پوری ڈیڑھ صدی لگی - کراچی سے بمبئ....اور بمبئ سے لندن....بنا ویزے کے پھرنا.....واہ کیا دور تھا....اب تو گلی کی نکڑ پر کھڑے سنتری ، کتے یا سیکٹر انچارج کو بنا شناخت کرائے اپنے گھر بھی نہیں پہنچ سکتے...!!!
بھنڈی بازار پہنچ کر سب سے پہلے تو سّید صاحب نے ہمیں ایک ترک ٹوپی خرید کر دی پھر انہوں نے اپنی ضروریات کا کچھ سامان خریدا-
یہیں کہیں سید صاحب کے ایک ھمدم دیرینہ مرزا محمد علی بیگ رہتے تھے- ان کے گھر ملنے کو گئے- مرزا صاحب تپاک سے ملے لیکن نہ چائے پوچھی نہ پانی ....گھر میں کوئ بیٹھک بھی نہ تھی....چناچہ ہمیں ساتھ لیے... گلی کی نکر پر ایک کتابوں کی دکان پر جابیٹھے - اور شروع ہو گئے..... "اور سنائیے سید صاحب ....اور سنائیے"....اور سرسیّد "ٹھیک ٹھاک.... ٹھیک ٹھاک " کہ کر ٹک ٹک کھیلتے رہے - سچ تو یہ ہے کہ جب کوئ دوست بنا کھلائے پلائے " ہور سنا ....ہور سنا" کی کیسٹ چلادے تو اسے ٹکر مار کر بھاگ جانے کو جی چاھتا ہے-
تھوڑی دیر بعد ایک اور بزرگ جو دور بیٹھے ، اس "گپ شپ" سے لطف اندوز ہو رہے تھے ، کھسکتے ہوئے ہمارے قریب آئے اور گویا ہوئے " حجرت.... کیا دلی سے آوت ہے ؟؟ "
سرسیّد نے تصدیق کی تو وہ کھسک کے تھوڑا اور قریب ہو گئے...اور بولے "اور دلی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہووت ہے ناں "
"یک نہ شد دو شد " میں نے سوچا اور اذان مغرب کا انتظار کرنے لگا-
"اے میاں...دلی ماں کسی دور ماں اِک اکھبار نکلت ہو.....سیّد الاکھبار...کوئ سیّد عبدالغفور پدر عبدالرزاق ہووت جو اس کو چلاوت ہے اس کا کوئ کھیر کبھر !!! "
" نکلتا تھا...پر اب بند ہوگیا" سیّد صاحب نے جواب دیا-
اس پر بزرگ نے ایک زور کی "اچھا" کی...اور ہم نے زور کی جماہی لی-
" ایک رسالہ..بھی ..نکلت ہے...کسی جمانے میں....بھلا سا نام ہووت...ہاں...تسہیل فی الاعمال جرّ ثقیل....اس کا کیا کھبر ہووت.."
"نکلتا تھا....پر اب بند ہوگیا" سرسیّد نے کہا-
"اچھا....اچھا.....بند ہوگیا....اچھا...ایک اور رسالہ نکلت ہے کبھو...کیا نام تھا....ہاں....نتائج الافکار فی اعمال الفرجار...جہ رسالو بی بند ہووت کیا...؟؟."
" جی ہاں......وہ بھی بند ہوگیا" سرسیّد نے کہا- مجھے اب لگاتار جماہیاں آنا شروع ہو گئیں-
"اچھا...ایک چھوکرو تھا...دلی ماں....نام تو بھول گیا ہوں...تھوبڑا بی یاد نئیں...جوادالدولہ لقب ہووت....اور.....ایک کتاب لکھت....آثارالصنادید....بڑھیا کتاب ہووت....اس چھوکرو کا کائ کھبر...جندہ کہ مر کھپ گیوت ؟"
"وہ چھوکرو ٹھیک ٹھاک ہے....خوش و خرم ہے...اور آپ کے سامنے بیٹھا ہے " سرسیّد نے کہا- اور میں چونک کر رہ گیا-
اس پر وہ بزرگ کھڑے ہو گئے ....سید صاحب سے نہایت شوق سے مصافحہ کیا اور بھینچ بھینچ کر گلے لگایا - بزرگ نے اپنا نام میر اشرف علی بتایا....بہرحال میری لاٹری نکل آئ...پہلے انہوں نے دودھ سوڈا منگوایا پھر مٹھائ....اور آخر میں میٹھے پان سے تواضع فرمائ....یہ ہوتے ہیں اصل فیس بک فرینڈ - میں نے سوچا کہ واقعی لکھاری کی تحریر ہی اس کا اے ٹی ایم کارڈ ہوتا ہے جو کسی بھی جگہ کیش ہو سکتا ہے-
اسی دوران دکان کے قریب ایک مسجد میں مغرب کی اذان ہو گئ- ہم سب سوئے مسجد چل دیے- سرسیّد نے کہا " بھائ لوگو...ٹوپیاں اتار کر بغل میں لے لو....ورنہ ...سارے نمازی، نماز چھوڑ کر تمہاری سرخ ٹوپیاں دیکھنے لگیں گے "
مسجد پہنچے تو کوئ ڈیڑھ سو نمازی موجود تھا اور ان میں سے کم و بیش نصف نے سرخ ترک ٹوپی ہی پہن رکھی تھی- سر سیّد نے مسکرا کر کہا " ٹوپیاں پہن لو....اب کوئ خطرہ نہیں"-
یہ شافعی مسلک کی مسجد تھی- نمازی سینے پر ہاتھ باندھتے تھے اور زور سے امین کہتے تھے- نماز سے فارغ ہوئے تو سرسیّد نے کہا " آج تو اپنے ہم مشربوں کے ساتھ نماز کا سواد ہی آگیا- ساتھ ہی انہوں نے اپنے بیٹے سید حامد کو مصنوعی طور پر ڈانٹا " اے میاں....تُو تو حنفی ہے...تو کیوں پکار پکار کر امین کہ رہا تھا"-
"سید حامد نے ہنس کر کہا " جب سب ہی کہ رہے تھے تو میرے کہنے سےکون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا" اس ہر ہم سب ھنس دیے-
رات گئے ہم سب پالن جی ہوٹل پہچے - میں تو آتے ہی لیٹ گیا- سّید صاحب کافی دیر تک کچھ لکھتے رہے....شاید اب تک کا سفرنامہ !!!!
ہمارے ساتھ حامد و محمود تھے اور مرزا خداداد بیگ بھی- سرسیّد نے بتایا کہ ہمیں بھنڈی بازار جانا ہے - اس بار ہمیں دو گھوڑا اومنی بس کی چھت پر جگہ ملی- بارش کے بعد بمبئ کا فطری حسن خوب نکھر کر سامنے آیا تھا - وکٹوریا عمارتیں سرسبز درختوں کی اوٹ سے کسی حسینہ کی طرح جھانک رہی تھیں - ہلکی ہلکی رم جھم اب بھی جاری تھی اور مسحورکن ہوا نے موسم عاشقانہ بنا رکھا تھا- میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک پنڈت جی تشریف فرما تھے جنہیں اگلی سیٹ پر بیٹھے ان کے دوست نے "کپور جی" کہ کر آواز دی تو میں چونک پڑا- میں نے سوچا شاید یہی کرینہ کپور کے لکڑداد ہوں.... پھر یاد آیا کہ فلمی کپور خاندان تو فیصل آباد سے آیا تھا...جو کبھی لائل پور ہوا کرتا تھا - یہیں پرتھوی راج کپور پیدا ہوئے...اور پشاور میں تعلیم حاصل کی ...ان سے چلے راج کپور...پھر ان کے بیٹے رندھیر کپور....اور اب ان کی زہرہ جبین...کرشمہ کپور اور کرینہ کپور....بالی ووڈ میں جلوہ گر ہیں....یہ ہے ڈیڑھ صدی کا قصہ !!!
موسم چٹکیاں لے رہا تھا....میں نے سوچا کہ اگر اس موسم میں کسی پر دل آگیا تو بڑی مشکل ہو جائے گی- نہ ماضی کا رہوں گا نہ مستقبل کا- اس خطے کو دوزخ بنانے میں ہمیں پوری ڈیڑھ صدی لگی - کراچی سے بمبئ....اور بمبئ سے لندن....بنا ویزے کے پھرنا.....واہ کیا دور تھا....اب تو گلی کی نکڑ پر کھڑے سنتری ، کتے یا سیکٹر انچارج کو بنا شناخت کرائے اپنے گھر بھی نہیں پہنچ سکتے...!!!
بھنڈی بازار پہنچ کر سب سے پہلے تو سّید صاحب نے ہمیں ایک ترک ٹوپی خرید کر دی پھر انہوں نے اپنی ضروریات کا کچھ سامان خریدا-
یہیں کہیں سید صاحب کے ایک ھمدم دیرینہ مرزا محمد علی بیگ رہتے تھے- ان کے گھر ملنے کو گئے- مرزا صاحب تپاک سے ملے لیکن نہ چائے پوچھی نہ پانی ....گھر میں کوئ بیٹھک بھی نہ تھی....چناچہ ہمیں ساتھ لیے... گلی کی نکر پر ایک کتابوں کی دکان پر جابیٹھے - اور شروع ہو گئے..... "اور سنائیے سید صاحب ....اور سنائیے"....اور سرسیّد "ٹھیک ٹھاک.... ٹھیک ٹھاک " کہ کر ٹک ٹک کھیلتے رہے - سچ تو یہ ہے کہ جب کوئ دوست بنا کھلائے پلائے " ہور سنا ....ہور سنا" کی کیسٹ چلادے تو اسے ٹکر مار کر بھاگ جانے کو جی چاھتا ہے-
تھوڑی دیر بعد ایک اور بزرگ جو دور بیٹھے ، اس "گپ شپ" سے لطف اندوز ہو رہے تھے ، کھسکتے ہوئے ہمارے قریب آئے اور گویا ہوئے " حجرت.... کیا دلی سے آوت ہے ؟؟ "
سرسیّد نے تصدیق کی تو وہ کھسک کے تھوڑا اور قریب ہو گئے...اور بولے "اور دلی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہووت ہے ناں "
"یک نہ شد دو شد " میں نے سوچا اور اذان مغرب کا انتظار کرنے لگا-
"اے میاں...دلی ماں کسی دور ماں اِک اکھبار نکلت ہو.....سیّد الاکھبار...کوئ سیّد عبدالغفور پدر عبدالرزاق ہووت جو اس کو چلاوت ہے اس کا کوئ کھیر کبھر !!! "
" نکلتا تھا...پر اب بند ہوگیا" سیّد صاحب نے جواب دیا-
اس پر بزرگ نے ایک زور کی "اچھا" کی...اور ہم نے زور کی جماہی لی-
" ایک رسالہ..بھی ..نکلت ہے...کسی جمانے میں....بھلا سا نام ہووت...ہاں...تسہیل فی الاعمال جرّ ثقیل....اس کا کیا کھبر ہووت.."
"نکلتا تھا....پر اب بند ہوگیا" سرسیّد نے کہا-
"اچھا....اچھا.....بند ہوگیا....اچھا...ایک اور رسالہ نکلت ہے کبھو...کیا نام تھا....ہاں....نتائج الافکار فی اعمال الفرجار...جہ رسالو بی بند ہووت کیا...؟؟."
" جی ہاں......وہ بھی بند ہوگیا" سرسیّد نے کہا- مجھے اب لگاتار جماہیاں آنا شروع ہو گئیں-
"اچھا...ایک چھوکرو تھا...دلی ماں....نام تو بھول گیا ہوں...تھوبڑا بی یاد نئیں...جوادالدولہ لقب ہووت....اور.....ایک کتاب لکھت....آثارالصنادید....بڑھیا کتاب ہووت....اس چھوکرو کا کائ کھبر...جندہ کہ مر کھپ گیوت ؟"
"وہ چھوکرو ٹھیک ٹھاک ہے....خوش و خرم ہے...اور آپ کے سامنے بیٹھا ہے " سرسیّد نے کہا- اور میں چونک کر رہ گیا-
اس پر وہ بزرگ کھڑے ہو گئے ....سید صاحب سے نہایت شوق سے مصافحہ کیا اور بھینچ بھینچ کر گلے لگایا - بزرگ نے اپنا نام میر اشرف علی بتایا....بہرحال میری لاٹری نکل آئ...پہلے انہوں نے دودھ سوڈا منگوایا پھر مٹھائ....اور آخر میں میٹھے پان سے تواضع فرمائ....یہ ہوتے ہیں اصل فیس بک فرینڈ - میں نے سوچا کہ واقعی لکھاری کی تحریر ہی اس کا اے ٹی ایم کارڈ ہوتا ہے جو کسی بھی جگہ کیش ہو سکتا ہے-
اسی دوران دکان کے قریب ایک مسجد میں مغرب کی اذان ہو گئ- ہم سب سوئے مسجد چل دیے- سرسیّد نے کہا " بھائ لوگو...ٹوپیاں اتار کر بغل میں لے لو....ورنہ ...سارے نمازی، نماز چھوڑ کر تمہاری سرخ ٹوپیاں دیکھنے لگیں گے "
مسجد پہنچے تو کوئ ڈیڑھ سو نمازی موجود تھا اور ان میں سے کم و بیش نصف نے سرخ ترک ٹوپی ہی پہن رکھی تھی- سر سیّد نے مسکرا کر کہا " ٹوپیاں پہن لو....اب کوئ خطرہ نہیں"-
یہ شافعی مسلک کی مسجد تھی- نمازی سینے پر ہاتھ باندھتے تھے اور زور سے امین کہتے تھے- نماز سے فارغ ہوئے تو سرسیّد نے کہا " آج تو اپنے ہم مشربوں کے ساتھ نماز کا سواد ہی آگیا- ساتھ ہی انہوں نے اپنے بیٹے سید حامد کو مصنوعی طور پر ڈانٹا " اے میاں....تُو تو حنفی ہے...تو کیوں پکار پکار کر امین کہ رہا تھا"-
"سید حامد نے ہنس کر کہا " جب سب ہی کہ رہے تھے تو میرے کہنے سےکون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا" اس ہر ہم سب ھنس دیے-
رات گئے ہم سب پالن جی ہوٹل پہچے - میں تو آتے ہی لیٹ گیا- سّید صاحب کافی دیر تک کچھ لکھتے رہے....شاید اب تک کا سفرنامہ !!!!
Dedh Saddi Ka Qissa....12
Based on Hayat e Javed by A. H. Haali
Musafir in London by Sir Sayyed
Hayat e Sir Sayyed by Zia ud Din Lahori
Some characters and events are fictitiouss.


No comments:
Post a Comment