WhatsApp

Image Taken From Internet


وٹس ایپئے ---- ظفرجی

وٹس ایپ پر آپ کوئ بھی گروپ جوائن کر لیں مزے ہی مزے ہیں- روزانہ کی بنیاد پر سیکڑوں امیجز ، لطیفوں اور ویڈیوز سے آپ کی گیلری مزین رہے گی- آف لائن ہاورز میں آپ اس مال سے خود کو کافی حد تک بہلا پھُسلا سکتے ہیں-
ہمارے ایک دوست علی الصبح ہمیں "گُڈ مارننگ" کے ساتھ چائے کی دو پیالیاں اور پھڑکتا ہوا دِل بھیجتے ہیں- اسی طرح کبھی عربی کھجوریں کبھی چاکلیٹ ، کبھی کافی ، کبھی ٹافی تو کبھی نان خطائی- چھوڑا کچھ نہیں ، ہاں سر راہ ملے تو یقیناً رستہ چھوڑ دیں گے- چائے دکھانے اور چائے پلانے میں بہرحال فرق تو ہے ناں-
ایک اور دوست ہیں جو وٹس ایپ پر ہمیشہ خدشات پھیلاتے ہیں- ان کی ڈاک کرہء ارض سے پانی ختم ہونے سے لیکر ممکنہ زلزلوں ، طوفانوں اور قحط سالی کی خوشخبریوں سے بھری ہوتی ہے- مجال جو بھوُلے سی بھی کوئ خیر کی خبر سنائیں- گُمان تھا کہ مستقبل بینی نے کافی کمزور کر دیا ہو گا مگر ایک روز ان کی تصویر دیکھی تو مجھ سے بھی ہٹّے کٹّے نکلے- میرے خیال میں کرہء ارض کےلئے سب سے بڑا خطرہ یہ خود ہیں-
اسی طرح ایک اور دوست ہیں جن کا اسلام ہمیشہ خطرے میں رہتا ہے- دنیا میں کہیں کوئ غیر مسلم الٹی سیدھی حرکت کر بیٹھے یہ جنگل میں آگ کی طرح پھیلا دیتے ہیں- کبھی کبھار لگتا ہے کہ دنیا بھر کے گستاخوں نے انہیں اپنا برانڈ امبیسیڈر بنا کر وٹس ایپ پر بٹھا رکھا ہے-
ایک اور صاحب ہیں جن کا مشغلہ"سر قلمی " ویڈیوز بھیجنا ہے- پوری کوشش کرتے ہیں کہ سعودیہ میں سر قلم ہونے سے پہلے ویڈیو شیئر ہو جائے- ساتھ مجرم کا جرم بھی اپنی طرف سے گھڑ لیتے ہیں مثلاً آٹے میں نمک ملانے والے کا انجام- گزشتہ روز جب انہیں سعودیہ سے تازہ مال نہ مل سکا تو ایک قصاب کی ویڈیو چلا دی جو دھڑا دھڑ مرغیوں کے سر قلم کر رہا تھا- یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد مہینوں میں چکن سے نفرت کرتا رہا- شایدان کی سبزی کی دکان ہو-
اسی طرح ایک صاحب بچوں اور معصوم جانوروں پر ہوتے ظلم کی ویڈیوز بھیج کر نصیحت فرماتے ہیں کہ ایسا ظلم ہرگز نہیں کرنا چاھئے- شاید وہ نہیں جانتے کہ ظلم دیکھنے کا حوصلہ پیدا ہو جانا ہی انسان کو ظالم بناتا ہے-
اور بھی کئ نمونے ہیں- ایک صاحب دنیا بھر کے حادثات کے ویڈیو کلپس جوڑ کر بیک گراؤنڈ میں گیت چلا رہے ہیں " جگہ دل لگانے کی دنیا نہیں ہے" گویا متوفیوں نے دنیا کی بے ثباتی کو دیکھ کر ٹرک سے جپھی لگا لی ، سونامی میں بہہ گئے ، یا پُل سے چھلانگ لگادی- ایک اور صاحب مولانا کی تقریر " موت کا منظر" کے پیش منظر میں انگریزی فلم "Sight " کے سین دکھا رہے ہیں- یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ مولوی فلمی صنعت سے وابستہ نہیں ورنہ ھم بار بار "موت کا منظر" ہی دیکھتے-
ایک صاحب نے لہسن کےاتنے مناقب بیان کئے کہ گزشتہ زندگی پر افسوس ہوا جو لہسن کھائے بغیر گزر گئ- ایک اور صاحب ہر برسات میں دنیا بھر کی سیکڑوں سیلابی تصاویر دکھا کر بتلاتے ہیں کہ یہ لاہور نہیں جاپان ہے- ایک صاحب کے پاس پانامہ کمیشن کا والیم 10 ہے جو وہ قطرہ قطرہ ہمارے دماغ میں انڈیلتے رہتے ہیں-
اللہ آپ سب سے بچائے- جب تک آپ احباب زندہ ہیں ، کم از کم وٹس ایپ کا لطف ہم نہیں اٹھا سکتے-

No comments:

Post a Comment