ڈیڑھ صدی کا قصہ....(3)....ظفرجی
شکرم میں چارافراد بڑے مزے سے بیٹھے ہوئے تھے....سرسید نے اپنا بیگ دھرا اور ایک کلانچ بھر کر سوار ہو گئے - میں بھی ان کی تقلید میں جیسے تیسے گڈے پر چڑھ ہی گیا - میں نے سوچا کہ تاریخ کے سفر سے لوٹا تو آفت اقبال کی طرع لوگوں کو بتاؤں گا کہ اصل لفظ شَکرم تھا.... جسے ہم لوگوں نے "چَھکڑا " بنا دیا ہے.....
" یہ ہیں مرزا خدادا بیگ ....ہمارے دوست ، مربی، مشفق اور رفیق السفر.....یہ ہیں ہمارے نور چشم سید محمود اور یہ سید حامد.....اور یہ ہے ہمارا نوکر چھّجو .......یہ سب لندن کے مسافر ہیں...." سر سید نے رفقاء کا تعارف کروایا-
" میرا نام ظفر ہے....جو نہ تو بہادر ہے....نہ شاہ.....اور ملک ماء پاکستان است...سید صاحب اُس قرن سے اس قرن تک کھینچ لائے ہیں...جہاں تک تاریخ کی شکرم لے چلی.. چلوں گا " میں نے رفقائے سفر کو اپنا تعارف کرایا-
سب نے گرم جوشی سے میرا استقبال کیا....شکرم میں سیٹ وغیرہ تو تھی نہیں...ایک صاف ستھرا قالین کا ٹکڑا بچھا تھا....اور گدے لگے ہوئے تھے....دو آدمی آسانی سے سو بھی سکتے تھے...
کوچوان نے ہنٹر لہرایا....اور ہانکو ہانکو....کی آواز نکالی.....شاید یہ شکرم کا پن کوڈ تھا......چوں چوں پھٹ پھٹ کی آواز آئ اور یوں ہمارا سفر شروع ہوگیا -
دو بیلوں والی یہ شکرم اتنی سست تھی کہ اتر کر پیدل چلنے کو جی چاہ رہا تھا - میں نے دریافت کیا "سر کیا ہم لندن تک اسی شکرم پر جائیں گے"
اس پر زبردست قہقہہ پڑا......" جی نہیں....شکرم تو صرف ناگپور تک بک کرائ ہے.....پونے تین سو کلومیٹر ہے یہاں سے ناگپور" سرسید بولے -
"پونے تین سو کلو میٹر.........اس گڈے پر......اس گرمی میں " میں تقریبا چیخ اٹھا -
"آپ کے ہاں کیا بگھی استعمال ہوتی ہے " سّید حامد نے پوچھا
"نہیں......میٹرو........چلتی ہے وہاں " میں نے پسینہ پوچھتے ہوئےکہا -
"اس کے آگے بیل جوتتے ہو کہ گھوڑا...." سید حامد نے سنجیدگی سے پوچھا
میں ایک لمحے کےلیے سٹپٹایا.....پھر کچھ سوچ کر کہا...."شیر "
اس بات سے رفیقان سفر کچھ مرعوب سے ہوگئے...اور میں شرمندہ.!!!!
تھوڑی ہی دیر بعد اس سفر کی صعوبتیں ظاہر ہونا شروع ہو گئیں - بیلوں کی جوڑی اتنی "شریف" تھی کہ تشدد کے باوجود رینگ رینگ کر چل رہی تھی - زاد راہ کےلیے پانی بھی بہت کم تھا جو جلد ہی ختم ہو گیا- میرا حلق خشک ہونے لگا- کڑی دھوپ اور لو کے تھپیڑے..... یقین نہیں آرہا تھا کہ لندن جا رہے ہیں یا منصب داد کے ڈیرے سے بھینسوں کا چارہ لینے- راستے میں جہاں ہریالی دِکھتی سّید صاحب کا نوکر چھجو کنواں کنواں کرتا مٹی کی صراحی لیے بھاگتا - پھر جلد ہی منہ لٹکا کر واپس آجاتا- کبھی کنویں پر ڈول رسی موجود نہیں...کبھی پانی ندارد - خدا خدا کر کے ایک کنویں سے نصف گھنٹہ کی کوشش سے نصف صراحی پانی بھرا -
ہر پانچ میل کے جان لیوا سفر کے بعد ایک "سروس اسٹیشن " آتا جہاں پرانے بیل جمع کروا کر نئے بیل حاصل کئے جاتے.....
یہ بیلوں کی جوڑی جو گھبرا گئ
تو اس کی جگہ دوسری آگئ
تازہ دم بیلوں کے ساتھ کچھ سفر تو بخوبی کٹتا.... پھر یہ بیل بھی جمہوری حکمرانوں کی طرع سست ہو جاتے-
تاریخ کے سفر میں ہمیشہ بیل ہی بدلتے ہیں.....گَڈا وہی رہتا ہے - کسی دیمک زدہ نظام کی طرح-
" یہ ہیں مرزا خدادا بیگ ....ہمارے دوست ، مربی، مشفق اور رفیق السفر.....یہ ہیں ہمارے نور چشم سید محمود اور یہ سید حامد.....اور یہ ہے ہمارا نوکر چھّجو .......یہ سب لندن کے مسافر ہیں...." سر سید نے رفقاء کا تعارف کروایا-
" میرا نام ظفر ہے....جو نہ تو بہادر ہے....نہ شاہ.....اور ملک ماء پاکستان است...سید صاحب اُس قرن سے اس قرن تک کھینچ لائے ہیں...جہاں تک تاریخ کی شکرم لے چلی.. چلوں گا " میں نے رفقائے سفر کو اپنا تعارف کرایا-
سب نے گرم جوشی سے میرا استقبال کیا....شکرم میں سیٹ وغیرہ تو تھی نہیں...ایک صاف ستھرا قالین کا ٹکڑا بچھا تھا....اور گدے لگے ہوئے تھے....دو آدمی آسانی سے سو بھی سکتے تھے...
کوچوان نے ہنٹر لہرایا....اور ہانکو ہانکو....کی آواز نکالی.....شاید یہ شکرم کا پن کوڈ تھا......چوں چوں پھٹ پھٹ کی آواز آئ اور یوں ہمارا سفر شروع ہوگیا -
دو بیلوں والی یہ شکرم اتنی سست تھی کہ اتر کر پیدل چلنے کو جی چاہ رہا تھا - میں نے دریافت کیا "سر کیا ہم لندن تک اسی شکرم پر جائیں گے"
اس پر زبردست قہقہہ پڑا......" جی نہیں....شکرم تو صرف ناگپور تک بک کرائ ہے.....پونے تین سو کلومیٹر ہے یہاں سے ناگپور" سرسید بولے -
"پونے تین سو کلو میٹر.........اس گڈے پر......اس گرمی میں " میں تقریبا چیخ اٹھا -
"آپ کے ہاں کیا بگھی استعمال ہوتی ہے " سّید حامد نے پوچھا
"نہیں......میٹرو........چلتی ہے وہاں " میں نے پسینہ پوچھتے ہوئےکہا -
"اس کے آگے بیل جوتتے ہو کہ گھوڑا...." سید حامد نے سنجیدگی سے پوچھا
میں ایک لمحے کےلیے سٹپٹایا.....پھر کچھ سوچ کر کہا...."شیر "
اس بات سے رفیقان سفر کچھ مرعوب سے ہوگئے...اور میں شرمندہ.!!!!
تھوڑی ہی دیر بعد اس سفر کی صعوبتیں ظاہر ہونا شروع ہو گئیں - بیلوں کی جوڑی اتنی "شریف" تھی کہ تشدد کے باوجود رینگ رینگ کر چل رہی تھی - زاد راہ کےلیے پانی بھی بہت کم تھا جو جلد ہی ختم ہو گیا- میرا حلق خشک ہونے لگا- کڑی دھوپ اور لو کے تھپیڑے..... یقین نہیں آرہا تھا کہ لندن جا رہے ہیں یا منصب داد کے ڈیرے سے بھینسوں کا چارہ لینے- راستے میں جہاں ہریالی دِکھتی سّید صاحب کا نوکر چھجو کنواں کنواں کرتا مٹی کی صراحی لیے بھاگتا - پھر جلد ہی منہ لٹکا کر واپس آجاتا- کبھی کنویں پر ڈول رسی موجود نہیں...کبھی پانی ندارد - خدا خدا کر کے ایک کنویں سے نصف گھنٹہ کی کوشش سے نصف صراحی پانی بھرا -
ہر پانچ میل کے جان لیوا سفر کے بعد ایک "سروس اسٹیشن " آتا جہاں پرانے بیل جمع کروا کر نئے بیل حاصل کئے جاتے.....
یہ بیلوں کی جوڑی جو گھبرا گئ
تو اس کی جگہ دوسری آگئ
تازہ دم بیلوں کے ساتھ کچھ سفر تو بخوبی کٹتا.... پھر یہ بیل بھی جمہوری حکمرانوں کی طرع سست ہو جاتے-
تاریخ کے سفر میں ہمیشہ بیل ہی بدلتے ہیں.....گَڈا وہی رہتا ہے - کسی دیمک زدہ نظام کی طرح-
This story is based on Sar Sayyed,s travel story London in 1969.
Some contents of story are fictitious.


No comments:
Post a Comment