ڈیڑھ صدی کا قصہ....4....ظفرجی
بیل گاڑی ڈھچک ڈھچک چل رہی تھی اور میں اس کے سرخ سائباں تلے ہچکولے کھاتا سوچ رہا تھا کہ تاریخ لکھنی جتنی آسان ہے....تاریخ میں زندہ رہنا اتنا ہی مشکل کیوں ؟؟
"کیا سوچ رہے ہو صاحب " سرسید کی آواز گونجی-
"سر ....اس وقت کو کوس رہا ہوں جب تاریخ کے اس چھکڑے پر سوار ہوا تھا " میں آنکھیں موندے بولا -
"یہاں سے کوئ دو کوس دور دھومن چوکی کا ڈاک بنگلہ ہے - ....وہاں کچھ دیر ریسٹ کریں گے.....وہاں لیڈیاں دیکھ کر شاید تمہارا دل بہل جائے " سر سید نے سرگوشی کی -
"لیڈیاں....???....اسے کھاتے ہیں کہ پیتے ہیں " میں نے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا-
" انگریزی خوراک ہے....دیسی لوگ تو دیکھ کر رال ہی ٹپکا سکتے ہیں....میں....میم لوگ ک بات کر رہا ہوں "سرسید نے مسکراتے ہوئے کہا-
میری ہنسی چھوٹ گئ - "لیڈیاں....میں سمجھا سویوں سے ملتی جلتی کوئ ڈش ہے " ......واہ رے سر سید !!!!!
دھومن ڈاک بنگلہ واقعی ایک پرلطف جگہ تھی - یہاں اچھی خاصی رونق تھی - ایک طرف دھابے پر کھلکھلاتے چٹّے ولائتی بچے اور گھاگھرے والی خوبصورت لیڈیاں - دوسری جانب ننگ دھڑنگ کالے دیسی بچے اور میلی کچیلی ساڑھیوں والی کِراڑیاں........."تہذیبوں کا تصادم " عروج پر تھا -
ریستوران سے اشتہاء انگیز خوشبو کی لپیٹیں آرہی تھیں ۔
ہم لوگ شکرم سے اترے تو "مسلم پانی ....مسلم پانی....." کی صدالگاتے ننگ دھڑنگ بچوں نے ہمیں گھیر لیا- ان کے پاس چھوٹی چھوٹی مٹی کی صراحیاں تھیں - میں نے پانی لینا چاھا تو سرسید نے منع کر دیا " یہ صاف نہ ہو گا..... ہم خود کنویں سے پانی نکال کر پیئں گے "
سرسید ہر کام اپنی مرضی و منشاء سے کرنے کے عادی معلوم ہوتے تھے ، سیدھے خانساماں کے پاس گئے اور حسب ضرورت پراٹھوں کا آرڈر دیا - پھر چھجو کو ساتھ والے گاؤں بھیج کر دودھ منگوایا - ہم سب نے درخت کے نیچے بیٹھ کر گاڑھا گاڑھا خالص دودھ پیا-
سرسید ریستوران سے ایک اے فور سائز کا پرچہ لے آئے - میں اسے کھانے کا بل سمجھا- سرسید نے بتایا کہ یہ "ڈیلی گزٹ " ہے -
"اردو اور فارسی کے اخبارات تو غدر کے بعد بند ہوگئے....البتہ دوچار انگریزی کے پرچے چل رہے ہیں" سرسید نے گزٹ پر نظر جماتے ہوئے کہا- پھر انہوں نے باقاعدہ اخبار پڑھنا شروع کردیا-
"دلی ، میرٹھ اور مدراس میں سرکار کے چھاپے....سیکڑوں اسلامی کتب ضبط....ھندوستان بھر میں مدارس کی رجسٹریشن کا فیصلہ.....کلکتہ یونیورسٹی کا سالانہ رزلٹ...32 گریجویٹس میں دو مسلمان بھی شامل......پڑھنا چاھو گے....؟" سرسید نے اخبار میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا -
" رہنے دیں سر.... یہ ڈیڑھ صدی کا قصہ ہے...دوچار دنوں کی بات نہیں....." میں نے دور کھڑی شکرم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس کے بیل خشک گھاس پر منہ مار رہے تھے-
مرزا خداداد ھوٹل کے خانساماں سے ایک زندہ مرغی لے آئے....پھر خود ہی اسے ذبح کیا- کھانے پکانے کے برتن ہمراہ تھے - چنانچہ چھجو نے قورمہ پکانا شروع کیا اور خانساماں گھر سے پراٹھے بنوا کر لے آیا -
"ہم کھانا شکرم کے اندر بیٹھ کر کھائیں گے " سر سید نے فرمایا
"کیوں نہ ادھر ہی بیٹھ کر کھا لیں.... کھلی فضاء میں " میں نے تجویز دی-
" دراصل میں.......بھوکے ہندوستان کا منہ نہیں چڑانا چاھتا " سر سید نے کہا- اور چھجو کو شکرم کے اندر کھانا لگانے کا حکم دے دیا - ہم سب نے شکرم کے اندرچوکڑی مار کر کھانا کھایا-
کھانا واقعی بہت پر لطف تھا -
پیٹ بھرا تو میرے اندر کا "سہیل وڑائچ " پہلی بار کروٹ لے کر بیدار ہوا - ڈرتے ڈرتے.... ایک سوال داغ ہی دیا-
" ایک پیر پرست سنی گھرانے میں آنکھ کھولی.........پھر ترقی کرتے کرتے وہابی ہو گئے.........اور اب نیچری کا ٹھپہ ....مستقبل کے کیا ارادے ہیں... "
سر سید مسکرائے اور بولے " بھئ سیدھی بات یہ ہے کہ میری لائف میں اسکے سوا.....کہ لڑکپن میں خوب کبڈیاں کھلیں......کبوتر پالے....پتنگیں اڑائیں......ناچ مجرے دیکھے...اور بڑے ہوکر نیچری ، کافر ، اور بے دین کہلائے......اور رکھا ہی کیا ہے.....جب رند تھے تو فرہاد سے بڑھ کر تھے......جب زاھد خشک تھے تو نہایت ہی اکھڑ !!!........جب صوفی تھے تو رومی سے برتر تھے......اور اب خاکسار ہیں.....اور اپنی قوم کے غم گسار ....اب یہیں آکر ٹھہر گئے ہیں !!!!! "
اس کے بعد سر سیّد بہت کچھ بولے لیکن خماریء گندم نے ہماری آنکھوں اور کانوں پر نیند کا پردہ ڈال دیا.....اور ھچکولے کھاتی شکرم میں ہم بھی نیند کے ہچکولے کھانے لگے-
"کیا سوچ رہے ہو صاحب " سرسید کی آواز گونجی-
"سر ....اس وقت کو کوس رہا ہوں جب تاریخ کے اس چھکڑے پر سوار ہوا تھا " میں آنکھیں موندے بولا -
"یہاں سے کوئ دو کوس دور دھومن چوکی کا ڈاک بنگلہ ہے - ....وہاں کچھ دیر ریسٹ کریں گے.....وہاں لیڈیاں دیکھ کر شاید تمہارا دل بہل جائے " سر سید نے سرگوشی کی -
"لیڈیاں....???....اسے کھاتے ہیں کہ پیتے ہیں " میں نے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا-
" انگریزی خوراک ہے....دیسی لوگ تو دیکھ کر رال ہی ٹپکا سکتے ہیں....میں....میم لوگ ک بات کر رہا ہوں "سرسید نے مسکراتے ہوئے کہا-
میری ہنسی چھوٹ گئ - "لیڈیاں....میں سمجھا سویوں سے ملتی جلتی کوئ ڈش ہے " ......واہ رے سر سید !!!!!
دھومن ڈاک بنگلہ واقعی ایک پرلطف جگہ تھی - یہاں اچھی خاصی رونق تھی - ایک طرف دھابے پر کھلکھلاتے چٹّے ولائتی بچے اور گھاگھرے والی خوبصورت لیڈیاں - دوسری جانب ننگ دھڑنگ کالے دیسی بچے اور میلی کچیلی ساڑھیوں والی کِراڑیاں........."تہذیبوں کا تصادم " عروج پر تھا -
ریستوران سے اشتہاء انگیز خوشبو کی لپیٹیں آرہی تھیں ۔
ہم لوگ شکرم سے اترے تو "مسلم پانی ....مسلم پانی....." کی صدالگاتے ننگ دھڑنگ بچوں نے ہمیں گھیر لیا- ان کے پاس چھوٹی چھوٹی مٹی کی صراحیاں تھیں - میں نے پانی لینا چاھا تو سرسید نے منع کر دیا " یہ صاف نہ ہو گا..... ہم خود کنویں سے پانی نکال کر پیئں گے "
سرسید ہر کام اپنی مرضی و منشاء سے کرنے کے عادی معلوم ہوتے تھے ، سیدھے خانساماں کے پاس گئے اور حسب ضرورت پراٹھوں کا آرڈر دیا - پھر چھجو کو ساتھ والے گاؤں بھیج کر دودھ منگوایا - ہم سب نے درخت کے نیچے بیٹھ کر گاڑھا گاڑھا خالص دودھ پیا-
سرسید ریستوران سے ایک اے فور سائز کا پرچہ لے آئے - میں اسے کھانے کا بل سمجھا- سرسید نے بتایا کہ یہ "ڈیلی گزٹ " ہے -
"اردو اور فارسی کے اخبارات تو غدر کے بعد بند ہوگئے....البتہ دوچار انگریزی کے پرچے چل رہے ہیں" سرسید نے گزٹ پر نظر جماتے ہوئے کہا- پھر انہوں نے باقاعدہ اخبار پڑھنا شروع کردیا-
"دلی ، میرٹھ اور مدراس میں سرکار کے چھاپے....سیکڑوں اسلامی کتب ضبط....ھندوستان بھر میں مدارس کی رجسٹریشن کا فیصلہ.....کلکتہ یونیورسٹی کا سالانہ رزلٹ...32 گریجویٹس میں دو مسلمان بھی شامل......پڑھنا چاھو گے....؟" سرسید نے اخبار میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا -
" رہنے دیں سر.... یہ ڈیڑھ صدی کا قصہ ہے...دوچار دنوں کی بات نہیں....." میں نے دور کھڑی شکرم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس کے بیل خشک گھاس پر منہ مار رہے تھے-
مرزا خداداد ھوٹل کے خانساماں سے ایک زندہ مرغی لے آئے....پھر خود ہی اسے ذبح کیا- کھانے پکانے کے برتن ہمراہ تھے - چنانچہ چھجو نے قورمہ پکانا شروع کیا اور خانساماں گھر سے پراٹھے بنوا کر لے آیا -
"ہم کھانا شکرم کے اندر بیٹھ کر کھائیں گے " سر سید نے فرمایا
"کیوں نہ ادھر ہی بیٹھ کر کھا لیں.... کھلی فضاء میں " میں نے تجویز دی-
" دراصل میں.......بھوکے ہندوستان کا منہ نہیں چڑانا چاھتا " سر سید نے کہا- اور چھجو کو شکرم کے اندر کھانا لگانے کا حکم دے دیا - ہم سب نے شکرم کے اندرچوکڑی مار کر کھانا کھایا-
کھانا واقعی بہت پر لطف تھا -
پیٹ بھرا تو میرے اندر کا "سہیل وڑائچ " پہلی بار کروٹ لے کر بیدار ہوا - ڈرتے ڈرتے.... ایک سوال داغ ہی دیا-
" ایک پیر پرست سنی گھرانے میں آنکھ کھولی.........پھر ترقی کرتے کرتے وہابی ہو گئے.........اور اب نیچری کا ٹھپہ ....مستقبل کے کیا ارادے ہیں... "
سر سید مسکرائے اور بولے " بھئ سیدھی بات یہ ہے کہ میری لائف میں اسکے سوا.....کہ لڑکپن میں خوب کبڈیاں کھلیں......کبوتر پالے....پتنگیں اڑائیں......ناچ مجرے دیکھے...اور بڑے ہوکر نیچری ، کافر ، اور بے دین کہلائے......اور رکھا ہی کیا ہے.....جب رند تھے تو فرہاد سے بڑھ کر تھے......جب زاھد خشک تھے تو نہایت ہی اکھڑ !!!........جب صوفی تھے تو رومی سے برتر تھے......اور اب خاکسار ہیں.....اور اپنی قوم کے غم گسار ....اب یہیں آکر ٹھہر گئے ہیں !!!!! "
اس کے بعد سر سیّد بہت کچھ بولے لیکن خماریء گندم نے ہماری آنکھوں اور کانوں پر نیند کا پردہ ڈال دیا.....اور ھچکولے کھاتی شکرم میں ہم بھی نیند کے ہچکولے کھانے لگے-
Dedh Saddi Ka Qissa....4
Based on Hayat e Javed by A. H. Haali
Musafir in London by Sir Sayyed
Hayat e Sir Sayyed by Zia ud Din Lahori
Some characters and events are fictitious.
Model Najeeb Bhutto


No comments:
Post a Comment