ڈیڑھ صدی کا قصہ....5....ظفرجی
" میری پیدائش ایک مذہبی گھرانے میں ہوئ.....باپ کی طرف سے حسینی سید ہوں اور چھتیس واسطوں سے سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے جا ملتا ہے - ہمارا گھرانا شاہ عبدلعزیز (رح) کا معتقد تھا- وہاں بہت سی ایسی رسمیں بھی دیکھیں جو اب صرف سنیوں کے رہ گئ ہیں......میری والدہ بدعات سے کافی حد تک پرہیز کرتی تھیں...ایک بار شاہ عبدلعزیز (رح) صاحب کے ہاں سے میں کوئ تعویز لایا جسے پہن کر انڈے سے پرھیز کرنا لازم آتا تھا....لیکن ماں نے جانتے بوجھتے مجھے انڈا کھلایا...اورسمجھایا کہ نفع نقصان کا مالک صرف رب ہے...اس کا مطلب...کہ وہ.....پراگریسو تھیں..اور بدعات کی منکر....باقی لڑکپن تو کھیل تماشوں میں ہی گزرا....جیسا کہ اہل دلی کا دستور تھا.....تیراکی...تیراندازی....راگ رنگ کی محفلیں.....جوان بھائ کی موت نے ایسا جھٹکا دیا کہ ایک دم سب کچھ چھوٹ گیا.... زندگی میں مذہبی انقلاب آگیا...سر پر ٹوپی....کھلا پاجامہ....ڈھیلی ڈھالی قمیض......غرض کہ پکا مولوی بن گیا- چونکہ عربی اور فارسی ابتدائ عمر میں پڑھ رکھی تھی.....سو تحقیق مذہب کی جستجو ہوئ...جو اب تک جاری ہے.....کسی ایک مسلک کے پنجرے میں قید ہوکر زندگی بتا دینا.......میرے بس کی بات نہیں.....مذہب تحقیق در تحقیق کا نام ہے........تقلید تو جمود ہے اور جمود موت کی علامت "
سرسید بولتے رہے....اور میں سنتا رہا....کبھی سوجاتا ....کبھی جاگ جاتا- یوں بیل بدل بدل کر ہمارا سفر جاری رہا-
آخر تین دن اور تین راتوں کی صعوبت برداشت کرکے 6 اپریل 1869 کو ناگپور پہنچے - ناگپور میں کوئ ناگ تو نظر نہ آیا - البتہ غربت ہر طرف پھن پھیلائے کھڑی تھی - ایک پسماندہ گاؤں کی مانند....کچے پکے مکانات ....یہ تھا اٹھارویں صدی کا ناگپور جو آج بھارت کا سب سے بڑا معاشی شہر بن چکا ہے....
ریلوے اسٹیشن پہنچ کر دو بیلوں کی شکرم سے نجات ملی-
ناگپور ریلوے اسٹیشن کا پلیٹ فارم اپنے میانچنوں ریلوے اسٹیشن جیسا ہی تھا - وہی لوہے کا پل....لوہے کی پٹڑی....لوہے کی ٹینکی....بتی گودام.....اسٹیشن ماسٹر آفس.....مسافر خانہ درجہء اول....اور ذلت خانہ درجہء دوم !!!
بڑی طویل عمر پائ انگریز کی بنی عمارتوں نے...... برٹش راج کے بعد ادھر کوئ نئ اینٹ پتھر لگانا ہم نے بھی حرام ہی سمجھا ہے !!!!
سرسید سیدھا ٹکٹ گھر کی طرف لپکے اور جب واپس آئے تو بہت خوش تھے -
"خدا کا شکر ہے....بمبئ کےلیے سیکنڈ کلاس کی ٹکٹیں مل گئیں " ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی -
"سر گاڑی کتنے بجے چلے گی " میں نے دریافت کیا -
"صبح آٹھ بجے انشاء اللہ " سرسید نے پرجوش لہجے میں کہا - چلیں ابھی ہوٹل جا کر سامان درست کر لیں -
ہوٹل پہنچے تو تمام کمرے انگریز میموں اور بچوں سے بھرے ہوئے تھے - بڑی مشکل سے ایک کارنر کا کمرہ پلس ایک گودام نما کمرے میں جگہ ملی- اوپر سے چھت والا پنکھا بھی غائب....!!!
کھجور مارکہ پنکھا جھلتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ پنکھے کا مؤجد فلپ ڈائل اس وقت جرمنی میں بیٹھا ٹامک ٹویاں مار رہا ہوگا- آج سے 12 سال بعد 1882 میں وہ پہلا سیلنگ فین بنانے میں کامیاب ہوگا-
"سر...ہم بدنصیب تو ھندوستان میں پیدا ہو ہی گئے...یہ باؤلا انگریز کیا کر رہا ہے ادھر....لندن جیسی جنت چھوڑ کر اس دوزخ میں کیوں تپ رہا ہے" میں نے سیّد صاحب سے پوچھا-
" بھئ.....سچ پوچھو تو خدا کی رحمت ہوئ ہے ہم پر " سرسیّد نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سرگوشی کی...."انگریز ادھر نہ آتا تو ریل گاڑی کیسے آتی....یہ ریلوے اسٹیشن ....یہ ڈاک بنگلے.....اور یہ کمرہ جس میں ہم لیٹے ہوئے ہیں....انگریز ہی نے تو بنایا ہے....اسی لیے تو میں حکومت انگلشیہ کو دامت برکاتہم کہتا ہوں بھائ....اور لوگ سن کر پتھر اٹھا لیتے ہیں " سرسیّد نے ایک بار پھر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے نہایت دھیمی آواز میں کہا- " یہ جو پلاسٹک کا لوٹا پڑا ہے لیٹرین میں....انگریز ہی تو لایا ہے....ورنہ ہم لوگ تو ....استنجے کے ڈھیلوں پہ جھگڑ رہے تھے بھائ....بس.....اب زیادہ منہ مت کھلوایو ہمارا....کل سفر بھی کرنا ہے....تھوڑا آرام کر لیجیو !!!!"
سرسید بولتے رہے....اور میں سنتا رہا....کبھی سوجاتا ....کبھی جاگ جاتا- یوں بیل بدل بدل کر ہمارا سفر جاری رہا-
آخر تین دن اور تین راتوں کی صعوبت برداشت کرکے 6 اپریل 1869 کو ناگپور پہنچے - ناگپور میں کوئ ناگ تو نظر نہ آیا - البتہ غربت ہر طرف پھن پھیلائے کھڑی تھی - ایک پسماندہ گاؤں کی مانند....کچے پکے مکانات ....یہ تھا اٹھارویں صدی کا ناگپور جو آج بھارت کا سب سے بڑا معاشی شہر بن چکا ہے....
ریلوے اسٹیشن پہنچ کر دو بیلوں کی شکرم سے نجات ملی-
ناگپور ریلوے اسٹیشن کا پلیٹ فارم اپنے میانچنوں ریلوے اسٹیشن جیسا ہی تھا - وہی لوہے کا پل....لوہے کی پٹڑی....لوہے کی ٹینکی....بتی گودام.....اسٹیشن ماسٹر آفس.....مسافر خانہ درجہء اول....اور ذلت خانہ درجہء دوم !!!
بڑی طویل عمر پائ انگریز کی بنی عمارتوں نے...... برٹش راج کے بعد ادھر کوئ نئ اینٹ پتھر لگانا ہم نے بھی حرام ہی سمجھا ہے !!!!
سرسید سیدھا ٹکٹ گھر کی طرف لپکے اور جب واپس آئے تو بہت خوش تھے -
"خدا کا شکر ہے....بمبئ کےلیے سیکنڈ کلاس کی ٹکٹیں مل گئیں " ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی -
"سر گاڑی کتنے بجے چلے گی " میں نے دریافت کیا -
"صبح آٹھ بجے انشاء اللہ " سرسید نے پرجوش لہجے میں کہا - چلیں ابھی ہوٹل جا کر سامان درست کر لیں -
ہوٹل پہنچے تو تمام کمرے انگریز میموں اور بچوں سے بھرے ہوئے تھے - بڑی مشکل سے ایک کارنر کا کمرہ پلس ایک گودام نما کمرے میں جگہ ملی- اوپر سے چھت والا پنکھا بھی غائب....!!!
کھجور مارکہ پنکھا جھلتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ پنکھے کا مؤجد فلپ ڈائل اس وقت جرمنی میں بیٹھا ٹامک ٹویاں مار رہا ہوگا- آج سے 12 سال بعد 1882 میں وہ پہلا سیلنگ فین بنانے میں کامیاب ہوگا-
"سر...ہم بدنصیب تو ھندوستان میں پیدا ہو ہی گئے...یہ باؤلا انگریز کیا کر رہا ہے ادھر....لندن جیسی جنت چھوڑ کر اس دوزخ میں کیوں تپ رہا ہے" میں نے سیّد صاحب سے پوچھا-
" بھئ.....سچ پوچھو تو خدا کی رحمت ہوئ ہے ہم پر " سرسیّد نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سرگوشی کی...."انگریز ادھر نہ آتا تو ریل گاڑی کیسے آتی....یہ ریلوے اسٹیشن ....یہ ڈاک بنگلے.....اور یہ کمرہ جس میں ہم لیٹے ہوئے ہیں....انگریز ہی نے تو بنایا ہے....اسی لیے تو میں حکومت انگلشیہ کو دامت برکاتہم کہتا ہوں بھائ....اور لوگ سن کر پتھر اٹھا لیتے ہیں " سرسیّد نے ایک بار پھر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے نہایت دھیمی آواز میں کہا- " یہ جو پلاسٹک کا لوٹا پڑا ہے لیٹرین میں....انگریز ہی تو لایا ہے....ورنہ ہم لوگ تو ....استنجے کے ڈھیلوں پہ جھگڑ رہے تھے بھائ....بس.....اب زیادہ منہ مت کھلوایو ہمارا....کل سفر بھی کرنا ہے....تھوڑا آرام کر لیجیو !!!!"
Dedh Saddi Ka Qissa....5
Based on Hayat e Javed by A. H. Haali
Musafir in London by Sir Sayyed
Hayat e Sir Sayyed by Zia ud Din Lahori
Some characters and events are fictitiouss.


No comments:
Post a Comment