DADH SADI KA QISSA Ep#6



ڈیڑھ صدی کا قصہ....6....ظفرجی

اس رات گرمی قدرے کم تھی اور چاند پورا نکلا ہوا تھا -
 ہم ناگ پور ریلوے اسٹیشن کے ایک بنچ پر خاموش بیٹھے ہوئے تھے - تھوڑی دیر پہلے ایک مال گاڑی یاں آ کر رکی تھی اور کچھ سامان وغیرہ اترا تھا -
 ریلوے اسٹیشن اب سنسان پڑا تھا- ہمارے اور اکا دکا آوارہ کتوں کے سوا یہاں کوئ ذی روح نہ تھی-
 "سر لندن کس لئے جارہے ہیں " میں نے گہری سوچ میں محو سر سّید سے پوچھا -
 سر سید نے ایک گہری سانس لی .. " میری اس وزٹ کا بنیادی مقصد ایجوکیشن کے ان طریقوں سے واقفیت پیدا کرنا ہے جن کے ذریعے انگریز قوم نے اتنی ترقی کی ہے - اس وقت ھندوستان میں یورپ کا سفر کرنا انتہائ معیوب سمجھا جاتا ہے - اس لیے بہت کم ھندوستانی آج تک یورپ جاکر وہاں انگریز کی ترقی و تمدن دیکھ سکے ہیں" -
 میں نے سوچا ہمارے ہاں تو لوگ یورپ کے ویزے کے لیے گردے تک بیچ دیتے ہیں .....کون سے ھندوستان کی بات کرتا ہے یہ بزرگ -
 "ایک اور مقصد بھی ہے اس وزٹ کا" سر سید نے سکوت توڑا - "ایک انگریز مصنف ولیم مور نے اسلام اور شارح اسلام (ص) پر ایک پرتعصب کتاب لکھی ہے - اس نے مسلمان کو شدت پسند اور دھشت گرد ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے ..... میں نے سوچا کہ اس کتاب کا مدلل جواب لندن میں بیٹھ کر ہی لکھا جائے تاکہ وہیں شائع ہو.... "
" سر کسی گستاخ کی ہرزہ سرائ کا  کتابی جواب......ایک ھومیو پیتھک نسخہ ہے.....ان کے دماغی خناس کا علاج جہاد ہے ....صرف جہاد -" میں جزباتی ہو گیا -
 سر سید نے چونک کر میری طرف دیکھا " یہی مرض ہے ہم ھندوستانی مسلمانوں کا......فورا تشدد پر اتر آتے ہیں....یہ مت بھولیے کہ تشدد نفرت کو اور بھڑکاتا ہے - ہتھیار وہ اٹھاتا ہے جس کے پاس دلیل نہ ہو - اگر کوئ شارح اسلام (ص) اور اہل اسلام کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہے تو ہمیں اسکی غلط فہمی دور کرنی چاھئے....نہ کہ تشدد کا راستہ اپنا کر تعصب کی آگ کو مزید ایندھن فراہم کرنا چاھیے...... میں اسلام اور عیسائیت کے بیچ غلط فہمی کی وہ دیوار جو غدر کے بعد پیدا ہوئ ہے اسے گرانا چاھتا ہوں.........کیونکہ میرے رب کا ارشاد ہے...کہ اہل کتاب میں سے عیسائ نسبتا تمھارے زیادہ نزدیک ہیں..."
 سرسید کے منہ سے عیسائیوں کی یہ توصیف میرے حلق سے نیچے نہ اتری...
 "اہل کتاب.....کون اہل کتاب....ان تثلیث کے پجاریوں کو آپ اہل کتاب کہ رہے ہیں...جو یسوع کو رب کا بیٹا مانتے ہیں " میں نے کہا-
 " یہ چودہ سو سال پہلے بھی بیٹا ہی مانتے تھے ....لیکن قران نے انہیں اہل کتاب کہا ہے....ہم کون ہیں ان سے یہ حق چھیننے والے"
سرسید نے کہا-
 "سر...ہزاروں کلومیٹر دور....یورپ سے یہاں آکر....یہاں....یہ ھندوستان کے حلق میں پنجہ گاڑے بیٹھے ہیں....پوری قوم کو غلام بنائے بیٹھے ہیں...اور میں اہل کتاب کہ کر ان کی سیوا کرتا رہوں" میں نے کہا-
 "جی بالکل....جب اگلے جہان جاؤ تو وہاں جاکر گریبان پکڑ لینا ان لوگوں کا جنہوں نے ھندوستان کوڑیوں کے بھاؤ انہیں بیچا.....فی الحال....اپنی زنگ آلود تلواروں سے ان کی توپوں میں سوراخ کرنے کی بجائے...... ان سے فائدہ اٹھاؤ.....اپنے لیے....قوم کےلیے.....ورنہ کوئ اور اٹھا لے جائے گا....اور تم منہ دیکھتے رہ جاؤ گے"-
 میں کچھ کہتے کہتے چپ ہوگیا.....شاید میں بہت تھکا ہوا تھا.....ابھی تک میرے کانوں میں شکرم کی چوں چوں پھٹ پھٹ گونج رہی تھی...
ہم باتیں کرتے کرتے دوبارہ گودام میں واپس آچکے تھے.....
 ٹمٹماتا ہوا ایک غریب سا دیا گودام کا اندھیرا دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا- جو ہمارے آتے ہی بجھ گیا - میں سرسید سے پوچھتے پوچھتے رہ گیا کہ سر لائٹ کب آئے گی....پھر یاد آیا کہ اس ظلمت کی وجہ لوڈ شیڈنگ نہیں....تھامس ایڈیسن ہے.......جو یقیناً اس وقت کسی لیب میں بیٹھا تجربات کر رہا ہوگا.....آج سے دس سال بعد وہ پہلا بلب جلانے میں کامیاب ہوگا........1879 میں -
 " فکر نہ کرو.... لندن میں خوب روشنی ہوگی...... وہاں گیس بتی کا دور دورہ ہے" - سرسید نے اندھیرے میں بستر تلاش کرتے ہوئے کہا-
 تاریک گودام میں اپنے بیڈ پر پاؤں پسارے میں سوچ رہا تھا کہ اس وقت اوکاڑہ میں بھی ظلمت کا دور دورہ ہوگا.... میری بیگم کھانا پکانے کےلیے موم بتی تلاش کر رہی ہوگی....اور بیٹا ....ڈول لے کر انڈر گراؤنڈ ٹینک سے پانی نکال رہا ہوگا..... کاش بجلی ایجاد ہی نہ ہوتی.....اور اگر ایجاد ہو ہی گئ تھی تو کم از کم ہندوستان سے دور ہی رہتی....ڈیڑھ صدی بعد بھی ہم نے اگر دیا ہی جلانا تھا.....تو بلب دیا ہی کیوں تھا......ارے او تھامس ایڈیسن .!!!!
 "صبح ٹھیک آٹھ بجے....کلکتہ ایکسپریس.......پہلے بھی کبھی سفر کیا ہے ٹرین کا- "سرسید کی آواز آئ
 " جی.....جی.......بہت دفعہ.....ہمارے ہاں تو.....بلٹ ٹرین چلتی ہے.....ہوا سے بھی تیز" میں نے کہا-
"بلٹ ٹرین......واہ.....کس نے بنائ ہے یہ ٹرین" سرسید نے پوچھا-
"اتفاق فونڈری نے...." میں نے کہا....اور آنکھیں موند لیں-

Dedh Saddi Ka Qissa....6
Based on Hayat e Javed by A. H. Haali
Musafir in London by Sir Sayyed
Hayat e Sir Sayyed by Zia ud Din Lahori
Some characters and events are fictitiouss.

No comments:

Post a Comment