ڈیڑھ صدی کا قصہ.....(13).....ظفرجی
اگلے دن صبح چائے پہ بحث ہو گئ-
"آج ہم بڑودہ پہ جائیں گے " مرزا خدادا بیگ نے کہا-
ہم لوگ ناشتےکے بعد ھوٹل کے دالان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے-
"بڑودہ....؟؟ یہ بڑودہ کیا چیز ہے " میں نے پیالی میں چائے انڈیلتے ہوئے کہا-
بھئ جہاز دیکھنے جا رہے ہیں....چلنا ہے تو چلو" سرسید کی آواز آئ-
"کہاں.........ایئر پورٹ " میں نے شرارت کی- میں جانتا تھا کہ رائٹ برادران پہلی اڑان 19033 میں بھریں گے - اور ہم 1869ء کے ناشتے اڑا رہے ہیں-
"ایئر پورٹ کیا ہوتا ہے؟؟....ہم بمبئ پورٹ جا رہے ہیں میاں" سرسیّد نے تصحیح فرمائ -
"ایئر پورٹ بھی ہوتا ہے سر....جہاں سے بڑے بڑے جہاز سیکڑوں مسافروں کو لے کر ہوا میں اڑتے ہیں.... اور ملکوں ملکوں پھرتے ہیں" میں نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا-
سرسیّد اور مرزا خداداد بیگ نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا-
"یہ کیسے ممکن ہے.....مولویوں کی طرح غیرفطری فسانے مت سناؤ " سرسیّد نے جواب دیا-
"سر ہر وہ چیز جو عقل سے ماوراء ہو.....فسانہ نہیں ہوتی....کبھی اس کا ظہور بھی ہو سکتا ہے" میں نے بحث کا دروازہ کھولا-
"عقل سے ماورا ہونا اور ہے بھائ ....اور غیر فطری ہونا دوسری بات ہے" سرسیّد نے وضاحت کی-
"اچھا......فرق کیا ہے دونوں کے بیچ" میں نے سوال کیا-
" دیکھو بھائ.....اگر میں دیکھوں کہ ایک شخص کوئلوں پہ چلتا ہے، تو یہ عقل سے ماوراء ضرور ہے.....لیکن ممکنات میں سے ہے....کہ اس کےلیے ریاضت اور ارتکاز کی ضرورت ہے....بہت سے بازیگر ایسا کرتے ہیں....لیکن اگر ایک شخص آگ میں کود گیا...چالیس دن آگ میں رہا....اور بچ کر نکل آیا....تو یہ ماھیّت عناصر کی نفی ہے....یعنی ان نیچرل ہے...میں اَن نیچرل پہ یقین نہیں رکھتا" سرسّید نے کہا-
"اچھا سر !! اگر میں یہ کہوں کہ آسمان پر چھائے ان بادلوں کے پیچھے ایک لوہے کا پنجرہ تیر رہا ہے....اور اس پر نصب ایک کیمرہ ہماری تصاویر بنا بنا کر لندن بھیج رہا ہے ...تو یہ عقل سے ماوراء ہوگا یا ان نیچرل " میں نے سائنسی تیر چھوڑا-
" ظاہر یے.... ان نیچرل...لوہا ہوا میں نہیں تیر سکتا " سرسید نے جواب دیا-
" لیکن یہ سب دھڑلے سے ہو رہا ہے ....آپ سے ڈیڑھ صدی کے فاصلے پر ......بزریعہء سائنس " میں نے کہا-
سائنس تو عناصر کی ماھیت کا علم ہے....ممکن ہے کوئ ایسا عنصر....دریافت ہو چکا ہو اس پار...جو فضاء میں تیرتا ہو " سر سید نے کہا-
" لیکن جب مذہب کہتا ہے کہ اسی بادل کے پیچھے ...بہت اوپر... فرشتے ہیں...جنہوں نے عرش الہی کو تھام رکھا ہے....تو آپ محض اس لئے اس کا انکار کر دیتے ہیں کہ آپ اس کے ادراک و فہم سے عاری ہیں....یوں آپ اس پر ان نیچرل کی مہر لگادیتے ہیں " میں نے کہا-
"دیکھیں...آپ میرے افکار کی غلط توجیہ فرمارہے ہیں،.... میں فرشتوں کے مادی وجود پر یقین نہیں رکھتا....جس طرح مولوی لوگ رکھتے ہیں- اس طرح کے فرشتوں سے تو پورا ھندوستان بھرا پڑا ہے" سرسید نے مسکراتے ہوئے جواب دیا-
" پھر آپ فرشتوں پہ کس طرح کا ایمان رکھتے ہیں" میں نے کہا
" بھائ میں مولویوں کی طرح ان کی خیالی تصویریں نہیں بناتا....ھندوستان کے لوگ انہی فسانوں کے سبب بادل کے گول ٹکڑے کو بھی فرشتہ سمجھ کر اس سے امیدیں باندھ لیتے ہیں" سرسیّد نے کہا-
" آپ جبرئیل (ع) کو نبی (ص) کا ملکہ کہتے ہیں....مسلمان بالاجماع انہیں ملک کہتے ہیں.....فرق تو ہے ناں سر " میں نے کہا-
" صرف "ہ" کا فرق ہے....اب مولوی بن کر اس "ہ" پر بحث کرنی ہے یا بڑودہ دیکھنے جانا ہے " سرسیّد نے کہا-
اسی دوران بیرے نے آکر اطلاع دی کہ باہر ٹم ٹم آچکی ہے ، اور ہم بحث سمیٹ کر اٹھ کھڑے ہوئے-
"برخودار ناراض نہیں ہونا...میں بحث نہیں کرتا اور نہ ہی خود پر کی تنقید کا جواب دیتا ہوں- یہ مجھے ملحد کافر زندیق اور نجانے کیا کیا کہتے رہتے ہیں....لیکن میں نے کبھی پرکاہ اہمیت نہیں دی ان کو اور ان کے فتووں کو-" سرسیّد نے ٹم ٹم پہ بیٹھتے ہوئے کہا- اور میں صرف سر ہلا کر رہ گیا-
ٹم ٹم کو بگھی کا بچہ کہا سکتا تھا- ھندوستانی اسے یکہ بھی کہتے تھے اور رشتے میں یہ تانگے کی چھوٹی بہن تھی - بس سر پہ چھت نہیں تھی- ہم بمبئ کی سایہ دار سڑکوں سے ہوتے ہوئے پہلے ٹریژری آفس پہنچے- یہاں اورینٹل بینک سے سرسید نے الہ آبادی کرنسی کو بمبئ کرنسی سے تبدیل کروایا- روپیہ ، پیسا ، آنا ، ساورن.....یہ تھی کرنسی...اور نوٹ اتنا سادہ کہ مجھ سے بھی زیادہ - سرسیّد نے یہاں سے اپنا تنخواہ کا سرٹیفیکیٹ بھی بنوایا تا کہ ولایت میں انڈیا آفس سے تنخواہ برابر ملتی رہے- بینک کا حسن انتظام مثالی تھا- نہ قطار نہ انتظار....مجھے یک گونہ حسد محسوس ہوا - مجھے یاد آیا کہ میرا بینک عین تنخواہ والے دن تمام اے ٹی ایم مشینیں خراب کر دیتا ہے اور مجھے کراچی کی سڑکوں پہ بھگا بھگا کے مارتا ہے ... آقاؤں سے شدید نفرت نے ہمیں ان کے حسن انتظام سے کچھ سیکھنے کا موقع بھی نہ دیا-
"آج ہم بڑودہ پہ جائیں گے " مرزا خدادا بیگ نے کہا-
ہم لوگ ناشتےکے بعد ھوٹل کے دالان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے-
"بڑودہ....؟؟ یہ بڑودہ کیا چیز ہے " میں نے پیالی میں چائے انڈیلتے ہوئے کہا-
بھئ جہاز دیکھنے جا رہے ہیں....چلنا ہے تو چلو" سرسید کی آواز آئ-
"کہاں.........ایئر پورٹ " میں نے شرارت کی- میں جانتا تھا کہ رائٹ برادران پہلی اڑان 19033 میں بھریں گے - اور ہم 1869ء کے ناشتے اڑا رہے ہیں-
"ایئر پورٹ کیا ہوتا ہے؟؟....ہم بمبئ پورٹ جا رہے ہیں میاں" سرسیّد نے تصحیح فرمائ -
"ایئر پورٹ بھی ہوتا ہے سر....جہاں سے بڑے بڑے جہاز سیکڑوں مسافروں کو لے کر ہوا میں اڑتے ہیں.... اور ملکوں ملکوں پھرتے ہیں" میں نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا-
سرسیّد اور مرزا خداداد بیگ نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا-
"یہ کیسے ممکن ہے.....مولویوں کی طرح غیرفطری فسانے مت سناؤ " سرسیّد نے جواب دیا-
"سر ہر وہ چیز جو عقل سے ماوراء ہو.....فسانہ نہیں ہوتی....کبھی اس کا ظہور بھی ہو سکتا ہے" میں نے بحث کا دروازہ کھولا-
"عقل سے ماورا ہونا اور ہے بھائ ....اور غیر فطری ہونا دوسری بات ہے" سرسیّد نے وضاحت کی-
"اچھا......فرق کیا ہے دونوں کے بیچ" میں نے سوال کیا-
" دیکھو بھائ.....اگر میں دیکھوں کہ ایک شخص کوئلوں پہ چلتا ہے، تو یہ عقل سے ماوراء ضرور ہے.....لیکن ممکنات میں سے ہے....کہ اس کےلیے ریاضت اور ارتکاز کی ضرورت ہے....بہت سے بازیگر ایسا کرتے ہیں....لیکن اگر ایک شخص آگ میں کود گیا...چالیس دن آگ میں رہا....اور بچ کر نکل آیا....تو یہ ماھیّت عناصر کی نفی ہے....یعنی ان نیچرل ہے...میں اَن نیچرل پہ یقین نہیں رکھتا" سرسّید نے کہا-
"اچھا سر !! اگر میں یہ کہوں کہ آسمان پر چھائے ان بادلوں کے پیچھے ایک لوہے کا پنجرہ تیر رہا ہے....اور اس پر نصب ایک کیمرہ ہماری تصاویر بنا بنا کر لندن بھیج رہا ہے ...تو یہ عقل سے ماوراء ہوگا یا ان نیچرل " میں نے سائنسی تیر چھوڑا-
" ظاہر یے.... ان نیچرل...لوہا ہوا میں نہیں تیر سکتا " سرسید نے جواب دیا-
" لیکن یہ سب دھڑلے سے ہو رہا ہے ....آپ سے ڈیڑھ صدی کے فاصلے پر ......بزریعہء سائنس " میں نے کہا-
سائنس تو عناصر کی ماھیت کا علم ہے....ممکن ہے کوئ ایسا عنصر....دریافت ہو چکا ہو اس پار...جو فضاء میں تیرتا ہو " سر سید نے کہا-
" لیکن جب مذہب کہتا ہے کہ اسی بادل کے پیچھے ...بہت اوپر... فرشتے ہیں...جنہوں نے عرش الہی کو تھام رکھا ہے....تو آپ محض اس لئے اس کا انکار کر دیتے ہیں کہ آپ اس کے ادراک و فہم سے عاری ہیں....یوں آپ اس پر ان نیچرل کی مہر لگادیتے ہیں " میں نے کہا-
"دیکھیں...آپ میرے افکار کی غلط توجیہ فرمارہے ہیں،.... میں فرشتوں کے مادی وجود پر یقین نہیں رکھتا....جس طرح مولوی لوگ رکھتے ہیں- اس طرح کے فرشتوں سے تو پورا ھندوستان بھرا پڑا ہے" سرسید نے مسکراتے ہوئے جواب دیا-
" پھر آپ فرشتوں پہ کس طرح کا ایمان رکھتے ہیں" میں نے کہا
" بھائ میں مولویوں کی طرح ان کی خیالی تصویریں نہیں بناتا....ھندوستان کے لوگ انہی فسانوں کے سبب بادل کے گول ٹکڑے کو بھی فرشتہ سمجھ کر اس سے امیدیں باندھ لیتے ہیں" سرسیّد نے کہا-
" آپ جبرئیل (ع) کو نبی (ص) کا ملکہ کہتے ہیں....مسلمان بالاجماع انہیں ملک کہتے ہیں.....فرق تو ہے ناں سر " میں نے کہا-
" صرف "ہ" کا فرق ہے....اب مولوی بن کر اس "ہ" پر بحث کرنی ہے یا بڑودہ دیکھنے جانا ہے " سرسیّد نے کہا-
اسی دوران بیرے نے آکر اطلاع دی کہ باہر ٹم ٹم آچکی ہے ، اور ہم بحث سمیٹ کر اٹھ کھڑے ہوئے-
"برخودار ناراض نہیں ہونا...میں بحث نہیں کرتا اور نہ ہی خود پر کی تنقید کا جواب دیتا ہوں- یہ مجھے ملحد کافر زندیق اور نجانے کیا کیا کہتے رہتے ہیں....لیکن میں نے کبھی پرکاہ اہمیت نہیں دی ان کو اور ان کے فتووں کو-" سرسیّد نے ٹم ٹم پہ بیٹھتے ہوئے کہا- اور میں صرف سر ہلا کر رہ گیا-
ٹم ٹم کو بگھی کا بچہ کہا سکتا تھا- ھندوستانی اسے یکہ بھی کہتے تھے اور رشتے میں یہ تانگے کی چھوٹی بہن تھی - بس سر پہ چھت نہیں تھی- ہم بمبئ کی سایہ دار سڑکوں سے ہوتے ہوئے پہلے ٹریژری آفس پہنچے- یہاں اورینٹل بینک سے سرسید نے الہ آبادی کرنسی کو بمبئ کرنسی سے تبدیل کروایا- روپیہ ، پیسا ، آنا ، ساورن.....یہ تھی کرنسی...اور نوٹ اتنا سادہ کہ مجھ سے بھی زیادہ - سرسیّد نے یہاں سے اپنا تنخواہ کا سرٹیفیکیٹ بھی بنوایا تا کہ ولایت میں انڈیا آفس سے تنخواہ برابر ملتی رہے- بینک کا حسن انتظام مثالی تھا- نہ قطار نہ انتظار....مجھے یک گونہ حسد محسوس ہوا - مجھے یاد آیا کہ میرا بینک عین تنخواہ والے دن تمام اے ٹی ایم مشینیں خراب کر دیتا ہے اور مجھے کراچی کی سڑکوں پہ بھگا بھگا کے مارتا ہے ... آقاؤں سے شدید نفرت نے ہمیں ان کے حسن انتظام سے کچھ سیکھنے کا موقع بھی نہ دیا-


No comments:
Post a Comment