DADH SADI KA QISSA Ep#14



ڈیڑھ صدی کا قصہ.....(14).....ظفرجی

ہم 10 بجے بمبئ کے اورینٹل بینک سے باہر نکلے-
"سر کتنی سیلری ملی"
میرے استفسار پر سرسیّد نے تنخواہ کا سرٹیفیکیٹ مجھے تھما دیا-
"ایک سو بتیس روپے دس آنے ؟" میں نے سرٹیفیکیٹ کو بغور پڑھتے ہوئے کہا-
"یہ دس دن کا سیلری سرٹیفیکیٹ ہے- ماہانہ تنخواہ چار سو روپے دس آنے بنتی ہے" سرسیّد نے بتایا-
چار سو روپے دس آنے.....بہت بڑا پیکیج تھا اس دور کا.... اس وقت بمبئ میں سونے کی قیمت  18 روپے فی گرام تھی.... سرسیّد کی ماہانہ سیلری آج کے حساب سے نوے ہزار سے کچھ اوپر بنتی ہے -
بینک کے سامنے چار پانچ پالکیاں ترتیب سے کھڑی تھیں ، لیکن گھوڑا دور دور تک نہ تھا-
"سر گھوڑے ہڑتال پہ ہیں یا گھاس چرنے گئے ہیں " میں نے مسکراتے ہوئے سید صاحب سے پوچھا-
سرسیّد اور مرزا صاحب نے ایک مشترکہ قہقہہ لگایا-
 "وہ سامنے درخت کے نیچے بیٹھے ہیں" سرسیّد نے ھنستے ہوئے سامنے اشارہ کیا تو دو چاک و چوبند نوجوان بھاگتے ہوئے ہماری طرف آئے-
"کہاں جانا ہے صاحب" انہوں نے پوچھا-
"میزیگان بندر.......کیا لوگے ؟" مرزا صاحب نے پوچھا-
"ایک آنہ فی سواری" رکشہ بان بولا
ہم نے 55 آنے میں دو رکشے کرائے پہ لئے اور میزگان بندر روانہ ہو گئے- ہمارے "رکشہ ڈرائیور" کا نام عبدالشکور تھا-وہ لنگوٹ پہنے، رکشہ کھینچے ، بھاگا چلا جا رہا تھا - اس کی حالت قابل رحم تھی-
یہ ایک دستی رکشہ تھا- بعد میں جاپان نے 18855 میں اسے سائیکل رکشہ بنا کر نسل انسانی پر عظیم احسان کیا ، اور 1930 میں یہ ھندوستان میں داخل ہوا تو عبداالشکور کی جان چھوٹی - ڈیڑھ صدی کا فاصلہ برقرار رکھنے کےلیے ہم تب تک سائکل رکشا گھسیٹتے رہے جب تک انسانی حقوق والوں نے ہمارے کان نہ کھینچے- آج ہم چائنا کے چنگچی سے وہی کام لے رہے ہیں جو ڈیڑھ صدی پہلے عبدالشکور اور موہن داس سے لیتے تھے-
پہلے یہاں صرف انسانیت کی تذلیل ہوتی تھی اب انسانیت کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی بھی رسوا ہو رہی ہے-
 "سر لندن سرکاری خرچے پر جارہے ہیں یا ذاتی ؟ " میں نے عبدالشکور کی بھیگتی بنیان سے توجہ ہٹانے کے لیے سرسید سےگفتگو شروع کی-
" کچھ رقم پس انداز تھی....اور باقی الہ آباد والا گھر رہن رکھوایا ہے" سرسیّد نے جواب دیا-
 " کیا لندن جانا اتنا ہی ضروری تھا ...کہ اس کےلیے گھر رہن رکھوا دیا......آپ ہی کے بقول اس دور میں لندن جانے والے کی عزت ھندوستان میں دوکوڑی کی نہیں رہ جاتی....." میں نے پوچھا-
" شاید کوئ اچھا آئیڈیا مل جائے.....قوم کےلئے " سرسیّد نے جواب دیا-
"وہی قوم ......جو آپ کو کافر ملحد اور فاسق کہتی ہے؟" میں نے پوچھا-
 " عمل جراحی کے دوران مریض کے ہذیان سے گھبرا کر اوزار پھینک نہیں دینے چاھیں.....یہ عمارت دیکھ رہے ہو.؟؟..." سرسید نے سڑک کے بائیں جانب ایک خوبصورت وکٹوریا اسٹائل عمارت کی طرف اشارہ کیا-
"یہ بمبئ کا گرانٹ میڈیکل کالج ہے.....ھندوستان کا تیسرا بڑا میڈیکل کالج......18455 میں بنایا اسے سرکار نے....پتا ہے کتنے مسلمان پڑھتے ہیں یہاں.....بمشکل دو فیصد....باقی اٹھانوے فیصد یا تو ھندو ہیں....یا پارسی....میں پورے ھندوستان کے مسلمانوں سے بھیک مانگ کر....جھولی پھیلا کر....روپیہ اکٹھا کرنا چاھتا ہوں....تاکہ آکسفورڈ لیول کا ایک کالج بنا سکوں.....مسلمانوں کےلئے..... اس لئے کہ عبدالشکور کا بچہ اپنے باپ کی طرح رکشہ نہ کھینچے....بلکہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے...." سر سید نے بتایا-
 عبدالشکور کے کان بھی شاید ادھر ہی لگے تھے - بھاگتے بھاگتے گردن موڑ کر بولا " صاب....لعنت بھیجو جی... انگریجی تعلیم پہ.....ان ڈاکٹروں سے تو ھندوستانی حکیم ہی اچھے ہیں "
ہم دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور خاموش ہوگئے-
ھندوستان بھر میں علم طب واقعی عروج پر تھا- اگرچہ حکماء کمیاب تھے لیکن علاج کے معاملے میں اتنے حاذق کہ مریض کی آنکھوں میں جھانک کر بیماری اور نبض ٹٹول کر شجرہء نصب بتا دیتے تھے-
 سرسیّد بھی تو حکیم ہی تھے- قوم کی پوشیدہ بیماریوں کا علاج کرنا چاھتے تھے- دھندا اگرچہ مندا تھا ....لیکن پرامید تھے- اب کسی انگریزی نسخے کی تلاش میں لندن جارہے تھے-
 میزیگان بندر پر خوب رش تھا- سر سیّد نے بتایا کہ لوگ یہاں زیادہ تر سیر سپاٹا کرنے آتے ہیں- ہم لوگ چلتے چلتے جیٹی ہر آن ٹھہرے- سمندر میں بے شمار بادبانی کشیاں نظر آئیں-
 "وہ رہا ہمارا جہاز......بڑودہ....جس پر بیٹھ کر ہم سفر کریں گے" سرسیّد نے تقریباً دوکلومیٹر دور کھڑے ایک دخانی بحری جہاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-
 کشتی والوں نے ہمیں دیکھتے ہی ریٹ بڑھا دیے- بڑی مشکل سے دو روپے میں ایک چھوٹی بادبانی کشتی بک کرائ- ادھر ہم سوار ادھر کشتی بادام کے چھلکے کی طرح ادھر ادھر ڈولنے لگی - ملاح کا نام راجیش تھا جو پنسل کی طرح دبلا پتلا تھا- کشتی ڈولتی تو یوں لگتا کہ ابھی کشتی کا بادبان ٹوٹے گا یا راجیش کی کمریا-
 ہم سب نے پہلی بار سمندر میں قدم رکھا تھا- سرسیّد نے چلو بھر پانی منہ سے لگایا پھر نعوذ باللہ منہا پڑھتے ہوئے کلی کر دی- پھر میری طرف پلٹ کر بولے " بہت کڑوا ہے یار...کریلے وہابی کی طرح"
. نصف گھنٹہ ھچکولے کھانے کے بعد کشتی بڑودہ جہاز پر جا لگی اور ہم بزریعہ سیڑھی جہاز پر سوار ہوگئے -
Dedh Saddi Ka Qissa....14
Based on Hayat e Javed by A. H. Haali
Musafir in London by Sir Sayyed
Hayat e Sir Sayyed by Zia ud Din Lahori
Wikipedia free Incyclopedia
Some characters and events are fictitiouss.

No comments:

Post a Comment